لاہور – پنجاب انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (ای پی اے) نے سموگ کے بڑھتے خطرے کے پیشِ نظر دھواں چھوڑنے والی بھاری گاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی شروع کر دی ہے۔ ایجنسی نے واضح کیا ہے کہ اب سکولوں، کالجوں اور ہسپتالوں کی پرانی اور ناقص بسوں کو سڑکوں پر چلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ خلاف ورزی کرنے والی گاڑیوں کو جرمانہ اور ضبطگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اداروں کو فوری ہدایات جاری
ڈائریکٹر جنرل انوائرنمنٹ پنجاب عمران حمید شیخ نے تمام تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی بسوں اور دیگر ٹرانسپورٹ گاڑیوں کا فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ اور عملے کی حفاظت کے ساتھ ماحولیاتی ذمہ داری بھی اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ ناقص گاڑیوں کی مرمت یا تبدیلی لازمی قرار دے دی گئی ہے۔
جرمانوں اور ضبطگی کا اختیار
ای پی اے کے فیلڈ افسران کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ حد سے زیادہ دھواں چھوڑنے والی کسی بھی بھاری گاڑی کو موقع پر ہی چالان کاٹا جائے اور بار بار خلاف ورزی کی صورت میں گاڑی ضبط کر لی جائے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کے ساتھ مل کر مشترکہ چیکنگ مہم بھی شروع کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں پاکستانی نوجوان کی ڈی پورٹیشن، شاندار تعلیمی کارکردگی کے باعث روک دی گئی
صحت اور ماحولیات کا تحفظ اولین ترجیح
محکمہ ماحولیات کا کہنا ہے کہ لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ سمیت پنجاب کے بڑے شہروں میں سموگ کی وجہ سے سانس کی بیماریاں بڑھ رہی ہیں۔ ناقص گاڑیوں پر پابندی سے ہوا کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ ادارے جو احکامات کی خلاف ورزی کریں گے، ان کے خلاف ماحولیاتی قوانین کے تحت سخت جرمانے اور کارروائی کی جائے گی۔
