منگل, مارچ 3, 2026
Homeپاکستانڈی جی آئی ایس پی آر کا بیان: عمران خان کی ذہنی...

ڈی جی آئی ایس پی آر کا بیان: عمران خان کی ذہنی حالت پر سخت ردِعمل

راولپنڈی: انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جمعہ کو پریس کانفرنس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو ذہنی مریض قرار دیتے ہوئے ان کے فوجی مخالف بیانات کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کا غرور اور خود غرضی ریاست پاکستان سے بالاتر ہو چکی ہے، اور ایسی بیانیہ سازی اب سیاست نہیں بلکہ ملکی استحکام کو چیلنج کر رہی ہے۔ فوج عوام اور سیاست سے دور رہنے کا عزم رکھتی ہے مگر کسی بھی دراڑ ڈالنے کی کوشش برداشت نہیں کی جائے گی۔

عمران خان کے بیانات پر برہم ڈی جی آئی ایس پی آر

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس کا آغاز داخلی قومی سلامتی کے چیلنجز سے کیا، جہاں عمران خان کے حالیہ بیانات کو مرکزی حیثیت دی۔ انہوں نے کہا کہ "یہ شخص اپنے آپ کو ریاست سے بڑا سمجھتا ہے، جیسے ‘اگر میں نہ ہوں تو کچھ نہ ہو’۔” عمران خان کو ذہنی مریض کہتے ہوئے ان کی سابقہ کارروائیوں کا حوالہ دیا، جیسے نو مئی کے واقعات میں جی ایچ کیو پر حملہ، فوجی افسران کو غدار قرار دینا، اور عوام کو ہنگامات کی طرف اکسانا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان آئین اور قانون کو نظر انداز کرتے ہوئے بیرونی عناصر کے ساتھ مل کر بیانیہ بناتے ہیں، جو دہشت گردی، منشیات، اغوا اور جرائم کے نیکسس سے جڑا ہے۔ "تم کون ہو؟ کس کی زبان بول رہے ہو؟” جیسے سوالات اٹھاتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ فوج کا کردار عوام کی حفاظت ہے، نہ کہ سیاسی تنازعات میں۔

قومی سلامتی اور فوج عوام کے درمیان خلا کی تنبیہ

ڈی جی آئی ایس پی آر نے زور دیا کہ پاکستان کی مسلح افواج متوسط اور غریب طبقات سے تعلق رکھتی ہیں، اور کوئی سیاسی یا اشرافیہ کا پرچم نہیں اٹھاتیں۔ عمران خان کی جانب سے فوجی قیادت کو نشانہ بنانے، ریمٹنس روکنے کی اپیل، اور سول نافرمانی کی حوصلہ افزائی کو ملکی معیشت اور استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے آئین کے آرٹیکل 19 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آزادی اظہار کی حدود ہیں، جو ریاست اور قومی سلامتی کے خلاف نہیں ہو سکتیں۔ "اگر کوئی فوج پر حملہ کرے تو ہم براہ راست مقابلہ کریں گے، اس میں کوئی شک نہیں۔” یہ بیانات پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں میں غم و غصہ پھیلا رہے ہیں، جبکہ فوج نے سیاسی قیادت کا احترام کرنے کا اعلان کیا مگر دراڑ ڈالنے والی کسی بھی کوشش کو روکنے کا عزم دکھایا۔

یہ بھی پڑھیں: روس نے پاکستان پوسٹ سروس کیوں معطل کی؟ اہم وجوہات

سیاسی ردعمل اور مستقبل کی راہ

عمران خان کے حامیوں نے اس بیان کو سیاسی انتقام قرار دیا ہے، جبکہ سرکاری حلقوں میں اسے قومی یکجہتی کی ضرورت سمجھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تنازع پاکستان کی سیاسی استحکام کو مزید متاثر کر سکتا ہے، خاص طور پر جب ملک دہشت گردی اور معاشی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ فوج کا یہ موقف واضح کرتا ہے کہ ریاست سب سے مقدم ہے، اور کوئی بھی انفرادی خواہش اسے چیلنج نہیں کر سکتی۔

نتیجہ: اس پریس کانفرنس نے پاکستان کی سیاست اور فوج کے تعلقات میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اب یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا یہ تنقید سیاسی مصالحت کی راہ ہموار کرتی ہے یا مزید پولرائزیشن کا باعث بنتی ہے۔ قومی اتحاد ہی ملک کے استحکام کی ضمانت ہے، اور تمام فریقین کو اس کی قدر کرنی چاہیے۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں