منگل, مارچ 3, 2026
Homeپاکستانآئی ایم ایف بورڈ کا اجلاس آج، پاکستان کیلئے 1.2 ارب ڈالر...

آئی ایم ایف بورڈ کا اجلاس آج، پاکستان کیلئے 1.2 ارب ڈالر کی نئی قسط منظور ہونےکا امکان

اسلام آباد – بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا انتظامی بورڈ آج 8 دسمبر 2025 کو اپنا اجلاس منعقد کرے گا، جس میں پاکستان کے لیے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تحت ایک ارب ڈالر اور موسمیاتی لچک فنڈ (آر ایس ایف) کے تحت 20 کروڑ ڈالر سمیت کل 1.2 ارب ڈالر کی نئی قسط کی منظوری پر غور کیا جائے گا۔ اکتوبر میں طے پانے والے اسٹاف سطح کے معاہدے کے بعد پاکستان نے تمام شرائط پوری کر لی ہیں، بشمول کرپشن اور گورننس کی تشخیصی رپورٹ کی اشاعت، جو معاشی استحکام اور قدرتی آفات سے بچاؤ کی صلاحیت کو مضبوط بنانے میں اہم ثابت ہوگی۔

مذاکرات اور شرائط کی تکمیل

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 24 ستمبر سے 8 اکتوبر 2025 تک کراچی، اسلام آباد اور واشنگٹن میں طویل مذاکرات کے بعد اسٹاف سطح کا معاہدہ طے پایا تھا، جس میں ملک کی مالی کارکردگی، مالیاتی پالیسی، اصلاحات اور موسمیاتی اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے، خاص طور پر اسٹیٹ بینک کی سخت مالیاتی پالیسی کو سراہا جو افراط زر کو کنٹرول کرنے میں مؤثر ثابت ہوئی۔ بورڈ اجلاس سے پہلے کرپشن اور گورننس کی رپورٹ جاری کر کے پاکستان نے آخری شرط بھی پوری کر دی، جو شفافیت اور احتساب کی طرف ایک قدم ہے۔

معاشی اثرات اور آئی ایم ایف کی سفارشات

یہ قسط پاکستان کے بیرونی زرمبادلہ کے ذخائر کو 14 ارب ڈالر تک لے جائے گی، جو درآمدات کی دو ماہ کی کوریج فراہم کرے گی اور افراط زر کو مزید کم کرنے میں مدد دے گی۔ آئی ایم ایف نے سفارش کی ہے کہ سخت مالیاتی پالیسی کو برقرار رکھا جائے تاکہ طویل مدتی استحکام یقینی بنایا جا سکے۔ وزیر خزانہ محمداعرنگزیب نے قطر کے دوحا فورم میں بھی پاکستان کی معاشی بحالی کی کامیابیوں کو اجاگر کیا، جو عالمی سطح پر ملک کی ساکھ بڑھا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرانسپورٹرز کا بھاری جرمانوں کیخلاف آج لاہور سمیت پنجاب بھر میں ہڑتال کا اعلان

نتیجہ: استحکام کی طرف ایک قدم

آئی ایم ایف کی اس منظوری سے پاکستان کی معیشت کو تقویت ملے گی، جو قدرتی آفات اور مالی چیلنجز سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوگی۔ تاہم، اصلاحات کو تسلسل دینا ضروری ہے تاکہ عوام کو فائدہ پہنچے۔ یہ پیش رفت ملک کی معاشی خودمختاری کی طرف امید افزا نشانی ہے۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں