ہفتہ, مئی 30, 2026
Homeتفریحدرگاہ شاہ عبدالطیف بھٹائی پر چوری کی واردات، چورگیٹ توڑ کر چاندی...

درگاہ شاہ عبدالطیف بھٹائی پر چوری کی واردات، چورگیٹ توڑ کر چاندی لے اڑے

سندھ کے ضلع مٹیاری میں صوفی شاعر حضرت شاہ عبدالطیف بھٹائی کے مزار پر رات گئے چوروں نے گیٹ توڑ کر قیمتی چاندی کے سامان پر ہاتھ صاف کر دیا، جو سندھی ثقافت کی عظیم نشانی ہے۔ پولیس نے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی ہے اور ملزمان کی جلد گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ مقامی لوگوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے۔

واقعے کی تفصیلات

مٹیاری شہر میں واقع درگاہ شاہ عبدالطیف بھٹائی، جو ہر سال لاکھوں زائرین کی میزبانی کرتی ہے، پیر کی رات کو چوروں کا نشانہ بن گئی۔ پولیس ذرائع کے مطابق، نامعلوم افراد نے مزار کے مرکزی گیٹ پر توڑ پھوڑ کر داخلہ حاصل کیا اور وہاں رکھی ہوئی چاندی کی نذرانوں سمیت دیگر قیمتی اشیاء لے اڑے۔ واقعہ صبح ہونے پر سامنے آیا تو درگاہ کا عملہ اور مقامی انتظامیہ جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ ابتدائی جائزے میں اندازاً کئی کلو چاندی غائب ہونے کی بات سامنے آئی ہے، جس کی مالیت لاکھوں روپوں بتائی جا رہی ہے۔

پولیس کارروائی اور مقامی ردعمل

مٹیاری پولیس نے فوری طور پر ایف آئی آر درج کر لی اور سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ کی جانچ شروع کر دی ہے۔ ایس ایچ او مٹیاری کا کہنا ہے کہ ویڈیو فوٹیج میں ملزمان کی شکل واضح ہے، جس سے ان کی شناخت ممکن ہو جائے گی۔ اضافی فورس تعینات کر دی گئی ہے تاکہ مزید چوری کی روک تھام کی جائے۔ دوسری طرف، درگاہ کے زائرین اور سندھی ادب کے شائقین نے اسے صوفیانہ ورثے پر حملہ قرار دیتے ہوئے شدید ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر #شاہ_عبدالطیف_بھٹائی اور #مٹیاری_چوری جیسے ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہے ہیں، جہاں لوگ امن و محبت کے پیغام والے مزار کی حفاظت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: عُمان میں مائننگ اور انرجی شعبے کی نوکریوں کے لیے نیا لائسنسنگ قانون متعارف

ثقافتی اہمیت اور بڑھتی چوری کی لہر

حضرت شاہ عبدالطیف بھٹائی، جن کا رسالہ محبت و امن کی علامت ہے، سندھ کی ثقافتی جان ہیں۔ ان کا مزار بھٹ شاہ میں ہر سال عرس پر صوبے بھر سے لوگ جمع ہوتے ہیں، جہاں راگیں اور سماع محفلیں سجتی ہیں۔ یہ چوری نہ صرف مادی نقصان بلکہ روحانی ورثے پر سوال اٹھاتی ہے۔ سندھ میں مذہبی مقامات پر چوری کی وارداتیں بڑھ رہی ہیں، جو سیکیورٹی خلا کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید نگرانی کے نظام لگانے کی ضرورت ہے تاکہ ایسے مقدس مقامات محفوظ رہیں۔

امید کی کرن اس افسوسناک واقعے کے باوجود، پولیس کی تیز کارروائی سے امید ہے کہ ملزمان جلد گرفتار ہو جائیں گے۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ صوفی بزرگوں کے مزار ہماری مشترکہ میراث ہیں، جن کی حفاظت سب کی ذمہ داری ہے۔ سندھ حکومت کو چاہیے کہ درگاہوں کی سیکیورٹی کو ترجیح دے تاکہ زائرین بغیر کسی خدشے کے حاضری دے سکیں۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں