منگل, مارچ 3, 2026
Homeعالمیکیا پاکستان کا ’سپر فلو‘ خطرناک ہے؟ یہ ہے ماہرین صحت کیا...

کیا پاکستان کا ’سپر فلو‘ خطرناک ہے؟ یہ ہے ماہرین صحت کیا کہتے ہیں۔

پاکستان میں ’سوپر فلو‘ کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے، جہاں H3N2 انفلوئنزا کا جینیاتی طور پر تبدیل شدہ subclade تیزی سے پھیل رہا ہے۔ عالمی سطح پر یورپ اور جنوبی ایشیا میں اس کی لہر نے تشویش پیدا کر دی ہے، مگر پاکستانی ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوان آبادی اور موسم کی وجہ سے شدید اثرات کم ہوں گے۔ ڈاکٹر جواد اکرم اور ڈاکٹر رانا صفدر جیسے ماہرین نے ویکسینیشن، احتیاط اور سپورٹو کیئر پر زور دیا ہے، جبکہ لاہور، راولپنڈی اور فیصل آباد جیسے شہروں میں کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

H3N2 subclade: جینیاتی تبدیلیاں اور عالمی لہر

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے مطابق، انفلوئنزا-A (H3N2) کا یہ نیا subclade متعدد جینیاتی mutations کی وجہ سے موسم سے پہلے ہی پھیل رہا ہے۔ یورپ، خاص طور پر برطانیہ میں غیر معمولی اضافہ رپورٹ ہوا ہے، مگر ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ شدید بیماری کا باعث نہیں بن رہا۔ WHO نے خبردار کیا ہے کہ ویکسینیشن شدید بیماری اور ہسپتال میں داخلے سے بچاؤ کا سب سے مضبوط ذریعہ ہے۔ پاکستان میں بھی اسی subclade کی گردش ہو رہی ہے، جو 2025-26 کی تجویز کردہ ویکسین سے قدرے مختلف ہے، مگر ویکسین خطرے کو کم کر دے گی۔

پاکستان میں صورتحال: شہری علاقوں میں تیزی سے پھیلاؤ

پاکستان کے بڑے شہروں میں ’سوپر فلو پاکستان خطرہ‘ عروج پر ہے۔ لاہور، گوجرانوالہ، راولپنڈی اور فیصل آباد میں گنجان علاقوں اور ہائی رائز عمارتوں میں کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں، جہاں بچے ’سپر اسپیڈرز‘ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) کے ڈاکٹر محمد سلیم نے تصدیق کی کہ سیزنل انفلوئنزا عالمی رجحانات کے مطابق بڑھ رہا ہے۔ سابق کووڈ رہنما ڈاکٹر رانا صفدر نے بتایا کہ نوجوان کمیونٹیز میں پھیلاؤ زیادہ ہے، جبکہ بوڑھے اور دائمی امراض والے افراد کو پیچیدگیاں درپیش ہیں۔ سردیوں کا دھواں بھی ٹرانسمیشن کو تیز کر سکتا ہے۔

احتیاطی تدابیر: ویکسین اور گھریلو علاج

ماہرین نے انتباہ دیا ہے کہ اینٹی بائیوٹکس سے فوری پرہیز کریں، بلکہ آرام، گرم مشروبات اور متوازن غذائیت پر توجہ دیں۔ ڈاکٹر مسعود اختر شیخ نے بتایا کہ ابھی تک اس variant سے کوئی اموات رپورٹ نہ ہوئیں، مگر سینے کی پیچیدگیاں بڑھ رہی ہیں۔ اوسیلتامیویر صرف ہائی رسک مریضوں کے لیے ڈاکٹر کی ہدایت پر استعمال کریں۔ ماسک (N-95)، ہاتھ دھونے، وینٹیلیشن اور ہائیڈریشن لازمی ہیں۔ ڈاکٹر جواد اکرم نے کہا کہ ستمبر-اکتوبر میں ویکسین لینا بہترین ہے، جو انفیکشن خطرے کو 70 فیصد کم کر دیتی ہے—خاص طور پر ہیلتھ ورکرز کے لیے لازمی۔

یہ بھی پڑھیں: کفایت شعاری کے باوجود سول ایڈمنسٹریشن کے اخراجات میں اضافہ، پنشن بل میں 125 فیصد اضافہ

نتیجہ: ’سوپر فلو‘ پاکستان کے لیے تشویش تو ہے، مگر بروقت ویکسینیشن اور احتیاط سے اسے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ بوڑھوں اور کمزور افراد کو ترجیح دیں، اور NIH کی ہدایات پر عمل کریں تاکہ سردیوں کی لہر ہلکی پڑے۔ عوام کو آگاہ رہنا چاہیے کہ متعدد وائرسز ایک ساتھ گردش کر رہے ہیں، لہٰذا علامات پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں