سوڈان کے جنوبی کوردوفان علاقے میں اقوام متحدہ کے امن مشن کے بیس پر ڈرون حملے میں بنگلادیش سے تعلق رکھنے والے 6 امن دستے کے ارکان ہلاک اور 8 زخمی ہوگئے۔ حملہ آوروں نے کاڈگلی کے قریب یو این کی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جسے سوڈانی فوج نے ریپڈ سپورٹ فورس پر الزام لگایا ہے۔ اقوام متحدہ نے اسے جنگی جرم قرار دیا ہے۔
حملے کی تفصیلات
ہفتے کے روز پیش آنے والے اس حملے میں یو این کے امن مشن یونیسفا کے بیس کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا۔ بنگلادیشی دستے کے ارکان اپنے فرائض انجام دے رہے تھے جب یہ واقعہ پیش آیا۔ زخمیوں میں سے 4 کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ سوڈانی فوج کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ریپڈ سپورٹ فورس کی جانب سے کیا گیا، جو گزشتہ دو سال سے زائد عرصے سے خانہ جنگی میں ملوث ہے۔ آر ایس ایف نے ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
عالمی اور مقامی ردعمل
بنگلادیش کے عبوری سربراہ محمد یونس نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے زخمیوں کے لیے فوری طبی امداد کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ ایسے حملے ناقابل قبول ہیں اور یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں جو جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔ عالمی برادری نے اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پاکستان کا ’سپر فلو‘ خطرناک ہے؟ یہ ہے ماہرین صحت کیا کہتے ہیں۔
پس منظر اور جاری تنازع
سوڈان میں فوج اور ریپڈ سپورٹ فورس کے درمیان جاری خانہ جنگی نے ہزاروں جانیں لی ہیں۔ یہ تنازع 2023 سے شروع ہوا اور اب تک امن کی کوئی امید نظر نہیں آ رہی۔ یو این کا امن مشن علاقے میں استحکام لانے کی کوشش کر رہا ہے، مگر ایسے حملے اسے مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
نتیجہ
یہ واقعہ سوڈان کے تنازع کی شدت کو ظاہر کرتا ہے اور عالمی سطح پر امن کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ بنگلادیش اور اقوام متحدہ کو چاہیے کہ ایسے حملوں کے خلاف مشترکہ اقدامات کریں تاکہ امن دستوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
