راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے ایک بار پھر اڈیالہ جیل جا کر بھائی سے ملاقات کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ملاقات نہ کروائی گئی تو وہ جیل کے باہر بیٹھی رہیں گی اور کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گی، چاہے پانی پھینکا جائے یا دیگر رکاوٹیں ڈالی جائیں۔ دوسری طرف وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اشارہ دیا ہے کہ جیل قوانین کی پاسداری کی جائے تو ملاقاتیں ممکن ہیں۔
علیمہ خان کا عزم اور بیان
علیمہ خان نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ وہ عمران خان سے ملنے اڈیالہ جیل ضرور جائیں گی اور وہاں موجود رہیں گی۔ انھوں نے کہا کہ اگر ملاقات کی اجازت نہ ملی اور پانی کی بوچھاڑیں کی گئیں تب بھی وہ اپنے موقف پر ڈٹی رہیں گی۔ علیمہ خان نے پارٹی کی اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی ٹیم ہی اصل ٹیم ہے اور علیمہ گروپ یا بشریٰ بی بی گروپ جیسے تقسیم کا پروپیگنڈا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں آیا جب جیل میں ملاقاتوں پر پابندیاں عائد ہیں اور خاندان کو بار بار روکا جا رہا ہے۔
حکومت کا موقف اور عطا تارڑ کے بیانات
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا رویہ بہتر ہوا ہے اور اگر پی ٹی آئی جیل مینوئل کی پاسداری کرے تو بانی چیئرمین سے ملاقاتیں ہو جائیں گی۔ ان کا اشارہ جیل قوانین کی سختی سے پیروی کی طرف تھا۔ حکومت کا موقف ہے کہ ملاقاتوں کے دوران سیاسی بات چیت یا قوانین کی خلاف ورزی پر پابندیاں لگائی جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے بی بی سی کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کردیا
ممکنہ نتائج اور سیاسی صورتحال
یہ تنازع عمران خان کی جیل ملاقاتوں کے گرد گھوم رہا ہے جو عدالت کے احکامات کے باوجود محدود ہیں۔ پی ٹی آئی کا الزام ہے کہ بانی چیئرمین کو تنہائی میں رکھا جا رہا ہے جبکہ حکومت قوانین کی پاسداری کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اگر علیمہ خان کی ملاقات نہ ہوئی تو جیل کے باہر احتجاج شدت اختیار کر سکتا ہے، جو سیاسی درجہ حرارت کو مزید بڑھا دے گا۔
یہ صورتحال پاکستان کی سیاست میں نئی کشیدگی پیدا کر سکتی ہے، جہاں ایک طرف خاندانی ملاقاتوں کا معاملہ ہے تو دوسری طرف قوانین کی عملداری۔
