ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے وزارت دفاع کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سخت انتباہ دیا کہ اگر امن مذاکرات ناکام ہوگئے تو روس یوکرین کے مزید علاقوں کو فوجی طاقت سے اپنے قبضے میں لے لے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ علاقائی مطالبات پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور یوکرین کے مغربی حامیوں کا دباؤ بھی روسی موقف تبدیل نہیں کر سکتا۔ پیوٹن نے یورپی رہنماؤں پر شدید تنقید کی اور کہا کہ روس اپنے مقاصد سفارتی یا فوجی ذرائع سے ضرور حاصل کرے گا۔
پیوٹن کا سخت لہجہ اور روسی مطالبات
پیوٹن نے اجلاس میں موجود فوجی افسران سے بات کرتے ہوئے کہا کہ روس تنازع کے بنیادی اسباب کو ختم کرنے کے لیے سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے، مگر اگر یوکرین اور اس کے غیر ملکی حمایتی سنجیدگی نہ دکھائیں تو تاریخی روسی علاقے طاقت سے آزاد کرائے جائیں گے۔ ان کا براہ راست اشارہ دونباس سمیت ان علاقوں کی طرف تھا جو روس یوکرین سے الگ کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ یہ بیان موجودہ امن کوششوں کے لیے بڑا دھچکا ہے۔
مغربی ممالک کی سفارتی کوششیں
دوسری جانب امریکا اور یورپی اتحادی یوکرین تنازع کے خاتمے کے لیے سرگرم ہیں اور سیکورٹی ضمانتیں دینے پر بات چیت کر رہے ہیں۔ تاہم علاقوں کی ملکیت اور یوکرین کی حفاظت کے معاملات پر فریقین کے درمیان گہرے اختلافات برقرار ہیں۔ پیوٹن نے یورپی رہنماؤں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان پر جنگ کی ہسٹیریا پھیلانے کا الزام لگایا۔
تجزیہ کاروں کی پیش گوئی
امریکی ادارے انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف وار کی رپورٹ کے مطابق اگر روسی فوج کی موجودہ پیش قدمی کی رفتار برقرار رہی تو دونباس کے تمام علاقوں پر قبضہ اگست 2027 تک مکمل ہو سکتا ہے۔ یہ رپورٹ روسی فوجی برتری کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا کے تعلیمی اداروں میں موسم سرما کی تعطیلات کا اعلان ہوگیا
یہ تازہ ترین بیانات یوکرین جنگ کو مزید طویل کرنے کا امکان ظاہر کر رہے ہیں، جبکہ عالمی برادری امن کے نئے راستے تلاش کرنے پر مجبور ہے۔ صورتحال کا انحصار آنے والے مذاکرات پر ہے جو فی الحال تعطل کا شکار ہیں۔
