اقوام متحدہ نے غزہ میں اگست 2025 میں اعلان کردہ قحط کے خاتمے کی تصدیق کر دی ہے، جو انسانی امداد کی بہتر رسائی کی وجہ سے ممکن ہوا۔ تاہم ادارے نے خبردار کیا ہے کہ علاقے کی صورتحال بدستور نازک ہے، جہاں 70 فیصد سے زائد آبادی عارضی پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہے اور سردیوں کی بارشوں سے آنے والے سیلاب بھوک میں اضافہ کر رہے ہیں۔ مانیٹرنگ ادارے انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن انیشی ایٹو کے مطابق، غزہ کو ایمرجنسی درجہ بندی میں رکھا گیا ہے، لیکن اپریل 2026 تک قحط کی سطح تک نہیں پہنچے گا۔
قحط کے خاتمے کی وجوہات
اقوام متحدہ کے بیان کے مطابق، غزہ پٹی میں خوراک کی حفاظت میں بہتری انسانی امداد کی مسلسل فراہمی کی بدولت آئی ہے۔ اگست میں قحط کا اعلان کیا گیا تھا، مگر اب امدادی سامان کی بہتر رسائی نے اسے ختم کر دیا۔ ادارے کا کہنا ہے کہ یہ بہتری مستقل نہیں، اور کسی بھی رکاوٹ سے دوبارہ بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ پاکستان سمیت مسلم ممالک نے اس پیشرفت کو سراہا ہے، مگر مزید امداد کی اپیل کی ہے۔
جاری انسانی چیلنجز
غزہ کی آبادی کا بڑا حصہ اب بھی شدید مشکلات کا شکار ہے۔ ادارے نے بتایا کہ سردیوں کی بارشوں سے سیلاب نے صورتحال مزید پیچیدہ کر دی ہے، جس سے بھوک اور بیماریوں کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ 70 فیصد لوگ کیمپوں میں رہ رہے ہیں، جہاں بنیادی سہولیات کی کمی ہے۔ یہ بحران جنگ اور سیاسی تنازعات کی وجہ سے مزید گہرا ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں شدید دھند کی وجہ سے موٹرویز بند، ٹریفک متاثر
نتیجہ
غزہ میں قحط کا خاتمہ ایک مثبت قدم ہے، مگر مستقل امن اور مسلسل امداد کے بغیر یہ بحران دوبارہ سر اٹھا سکتا ہے۔ اقوام متحدہ نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ غزہ کی مدد جاری رکھی جائے تاکہ انسانی المیہ سے بچا جا سکے۔ پاکستان جیسے ممالک کو اس معاملے میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔
