سعودی عرب کی وزارت انسانی وسائل اور سماجی ترقی نے اعلان کیا ہے کہ یکم جنوری 2026 سے مملکت بھر میں تمام گھریلو ملازمین کی تنخواہیں نقد کی بجائے بینک اکاؤنٹس کے ذریعے ادا کی جائیں گی۔ یہ اقدام شفافیت کو فروغ دینے اور ملازمین کے حقوق کی حفاظت کے لیے اٹھایا جا رہا ہے، جس سے تنخواہوں کی تاخیر اور تنازعات کم ہوں گے۔ یہ پالیسی سعودی عرب کے لیبر قوانین کو جدید بنانے کی وسیع کوششوں کا حصہ ہے، جو خاص طور پر پاکستانی اور دیگر غیر ملکی ملازمین کو متاثر کرے گی۔
پالیسی کی تفصیلات
یہ نیا نظام تنخواہوں کی حفاظت کے پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ تنخواہیں وقت پر اور درست طریقے سے ادا ہوں۔ وزارت کے مطابق، بینک ٹرانسفر سے ادائیگیوں کا ریکارڈ محفوظ رہے گا، جو ملازمین اور آجر دونوں کے لیے فائدہ مند ہے۔ اس سے پہلے، نقد ادائیگیوں میں اکثر تاخیر اور غلط فہمیاں ہوتی تھیں، لیکن اب یہ مسائل حل ہو جائیں گے۔ خاص طور پر پاکستان سے سعودی عرب جانے والے گھریلو ملازمین کو اس سے مالی تحفظ ملے گا۔
یہ بھی پڑھیں: AirSial کی جانب سے کیبن کریو کی نوکری کے لیے واک اِن انٹرویوز کا اعلان
مراحل کی تفصیل
یہ پالیسی مرحلہ وار نافذ کی جا رہی ہے۔ جولائی 2024 میں یہ نئے ویزوں پر آنے والے ملازمین پر लागو ہوئی۔ پھر، چار یا اس سے زیادہ ملازمین رکھنے والے آجروں پر، اور اکتوبر 2025 میں دو یا اس سے زیادہ ملازمین والوں پر۔ اب آخری مرحلے میں، یکم جنوری 2026 سے تمام آجروں پر لازم ہوگی، چاہے ایک ہی ملازم کیوں نہ ہو۔ یہ تدریجی نفاذ آجروں کو تیاری کا موقع دے رہا ہے
فوائد اور مستقبل
یہ اصلاح ملازمین کو مالی تحفظ فراہم کرے گی اور آجروں کو ادائیگیوں کا شفاف ریکارڈ دے گی۔ سعودی عرب کی لیبر اصلاحات کا یہ حصہ غیر ملکی ملازمین، بشمول پاکستانیوں، کے حقوق کو مضبوط بنائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم مملکت کی معیشت کو مزید منظم کرے گا۔
