منگل, مارچ 3, 2026
Homeعالمیامریکا نے وینزویلا کے ساحل کے قریب دوسرا تیل بردار جہاز ضبط...

امریکا نے وینزویلا کے ساحل کے قریب دوسرا تیل بردار جہاز ضبط کر لیا

واشنگٹن: امریکا نے وینزویلا کے ساحل کے قریب ایک اور تیل بردار جہاز کو تحویل میں لے لیا ہے۔ یہ کارروائی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے، جہاں امریکی کوسٹ گارڈ نے بین الاقوامی پانیوں میں یہ آپریشن کیا۔ جہاز پناما کا جھنڈا لگا ہوا تھا اور اس میں وینزویلا کا تیل لدا ہوا تھا جو ایشیا کی طرف جا رہا تھا۔ یہ حالیہ ہفتوں میں دوسرا واقعہ ہے جو مادورو حکومت پر امریکی پابندیوں کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔

امریکی کارروائی کی تفصیلات

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی سیکرٹری کرسٹی نوئم نے ایکس پر ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں کوسٹ گارڈ کے اہلکار ہیلی کاپٹر سے جہاز پر اترتے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ آپریشن ہفتے کی صبح بین الاقوامی پانیوں میں کیا گیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی پابندیوں کے تحت غیر قانونی تیل کی نقل و حمل روکنے کے لیے ہے، جو مادورو حکومت کو مالی مدد فراہم کرتی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے حال ہی میں وینزویلا میں داخل اور خارج ہونے والے تمام پابندی زدہ تیل جہازوں پر ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا۔

وینزویلا کا ردعمل اور پس منظر

وینزویلا کی حکومت نے اس کارروائی کو "چوری اور اغوا” قرار دیا ہے۔ وزیر خارجہ ایوان گل نے ٹیلی گرام پر بیان جاری کیا کہ امریکا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ مادورو حکومت پہلے بھی امریکا پر تیل کے وسائل چرانے کا الزام عائد کرتی رہی ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں ہوا جب امریکا نے لاطینی امریکا میں فوجی موجودگی بڑھا دی ہے، جو مادورو کو اقتدار سے ہٹانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل ذخائر ہیں، لیکن پابندیوں کی وجہ سے اس کی برآمدات شدید متاثر ہوئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان: خضدار میں 3.3 شدت کے زلزلے کے جھٹکے، لوگ گھروں سے باہر نکل آئے

نتیجہ

یہ کارروائی امریکا اور وینزویلا کے درمیان کشیدگی میں اضافے کی نشاندہی کرتی ہے، جو عالمی تیل مارکیٹ کو متاثر کر سکتی ہے۔ پاکستان جیسے ممالک جو تیل درآمد کرتے ہیں، اس صورتحال پر نظر رکھیں کیونکہ یہ عالمی قیمتوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ بین الاقوامی برادری کو اس تنازعے کا پرامن حل تلاش کرنا چاہیے تاکہ علاقائی استحکام برقرار رہے۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں