اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے ہم خیال سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کے لیے ایک کمیٹی بنانے کی تجویز پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک اور فوج ہماری ہے، ہم پہلے بھی ساتھ رہے اور آئندہ بھی رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہاتھ ملائیں تاکہ راستہ بنے اور بات کریں تاکہ مسائل حل ہوں۔ اس دوران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وفاق کی جانب سے صوبے کو وسائل نہ دینے کی شکایت کی، جبکہ اسد قیصر نے جمہوریت کی تباہی اور پنجاب میں اپوزیشن کی مشکلات کا ذکر کیا۔ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے آئین کی بحالی اور معاشی استحکام پر زور دیا۔
بیرسٹر گوہر کا بیان اور تجویز
بیرسٹر گوہر نے اپنے بیان میں کہا کہ ملکی حالات تقاضا کر رہے ہیں کہ جامع مذاکرات کیے جائیں۔ انہوں نے ہم خیال جماعتوں کو ملانے کی کمیٹی کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی بقا اور ترقی کے لیے اتحاد ضروری ہے۔ پاکستان کی سیاسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ تجویز اہم ہے، کیونکہ مختلف جماعتیں آئین کی حفاظت اور جمہوریت کی بحالی کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔ بیرسٹر گوہر کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ملک معاشی اور سیاسی بحرانوں سے گزر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سکھر میں عالمی میراتھون، غیرملکی ایتھلیٹس سمیت تین ہزار سے زائد رنرز کی شرکت
دیگر رہنماؤں کے تبصرے
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ ایک صوبے کو تمام وسائل دیے جا رہے ہیں جبکہ ہمارے صوبے کو حق نہیں مل رہا۔ انہوں نے آئی ایم ایف کی کرپشن رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے وفاق سے واجب الادا پیسے مانگے۔ پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کا جنازہ نکال دیا گیا ہے اور اپوزیشن پنجاب میں رہائش نہیں رکھ سکتی۔ شاہد خاقان عباسی نے زور دیا کہ آئین پر عمل کے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا اور معاشی استحکام کے لیے آئین کی بحالی ضروری ہے۔ یہ تبصرے پاکستان کی سیاسی صورتحال کو مزید واضح کرتے ہیں۔
نتیجہ
یہ تجاویز اور بیانات پاکستان کی سیاست میں اتحاد اور مذاکرات کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔ اگر یہ کمیٹی بنتی ہے تو یہ ملک کی سیاسی استحکام کی طرف ایک اہم قدم ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی عوام آئین کی بالادستی اور معاشی بہتری کی امید رکھتی ہے۔
