ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے روسی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں اسرائیل کی جانب سے ایک اور ممکنہ حملے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران جنگ کی خواہش نہیں رکھتا مگر اگر مسلط کی گئی تو مکمل دفاع کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی جارحیت کے نقصانات کو پورا کر لیا گیا ہے اور اگر اسرائیل نے یہ تجربہ دہرایا تو بہتر نتیجہ نہیں ملے گا۔ دوسری جانب امریکی میڈیا کے مطابق اسرائیل کو یقین ہے کہ ایران بیلسٹک میزائل پروگرام کو تیار کر رہا ہے اور وہ امریکا سے اس پر حملے کے بارے میں مشاورت چاہتا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اگلے ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات میں اس معاملے پر بات کر سکتے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ کا بیان
عباس عراقچی نے کہا کہ جنگ سے بچنے کا بہترین طریقہ مکمل تیاری ہے۔ ایران نے ماضی کی جارحیت سے سبق سیکھا ہے اور اب زیادہ مضبوط ہے۔ ان کا یہ بیان مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اہم ہے جہاں ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازعات جاری ہیں۔ پاکستان سمیت علاقائی ممالک اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ یہ امن و استحکام کو متاثر کر سکتی ہے۔
اسرائیلی اور امریکی موقف
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر تشویش میں ہے اور امریکا سے حملے کی منصوبہ بندی پر بات چیت کرنا چاہتا ہے۔ نیتن یاہو کی ٹرمپ سے ملاقات میں یہ معاملہ زیر بحث آ سکتا ہے۔ یہ پیشرفت ایران اسرائیل تنازع کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان نے مذاکرات کی تجویز پھر مسترد کردی، معافی کے بغیر کوئی بات چیت نہیں ہوگی: حکومت
نتیجہ
یہ صورتحال مشرق وسطیٰ کے امن کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ ایران کی تیاریاں اور اسرائیل کی تشویش علاقائی طاقتوں کو متوجہ کر رہی ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک کو سفارتی کوششوں سے اس تنازع کو حل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وسیع تر اثرات سے بچا جا سکے۔
