منگل, مارچ 3, 2026
Homeمالیاتامریکی شرحِ سود میں کمی کی توقعات پر سونے کی قیمت تاریخ...

امریکی شرحِ سود میں کمی کی توقعات پر سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

سونے کی قیمتیں پیر کو ریکارڈ بلند سطح 4,383.76 ڈالر فی اونس پر پہنچ گئیں جب کہ سرمایہ کاروں کا یقین بڑھتا جا رہا ہے کہ امریکی فیڈرل ریزرو اگلے سال شرح سود میں مزید کمی کرے گا۔ یہ اضافہ کمزور امریکی لیبر مارکیٹ اور کم ہوتی افراط زر کی علامات سے چل رہا ہے۔ چاندی کی قیمتیں بھی 2.7 فیصد اضافے کے ساتھ 69.23 ڈالر فی اونس کی تاریخی بلند سطح پر پہنچیں۔

مارکیٹ کی کارکردگی

سونے نے اس سال 67 فیصد اضافہ کیا ہے جو 1979 کے بعد سب سے زیادہ ہے، جب کہ چاندی 138 فیصد اضافے کے ساتھ آگے ہے۔ سونے نے 3,000 اور 4,000 ڈالر کی حد عبور کی۔ پلاٹینم 4.1 فیصد اضافے کے ساتھ 2,054.25 ڈالر اور پیلیڈیم 4 فیصد اضافے کے ساتھ 1,781.32 ڈالر پر پہنچا۔ اسٹون ایکس کے سینئر تجزیہ کار میٹ سمپسن کا کہنا ہے کہ دسمبر میں عام طور پر مثبت رجحان دیکھا جاتا ہے، لیکن کم تجارتی حجم سے منافع کمانے کا خطرہ ہے۔

وجوہات اور اثرات

سونے کی یہ ریلی محفوظ اثاثے کے طور پر اس کی حیثیت، مرکزی بینکوں کی خریداری، جیو پولیٹیکل تناؤ اور کمزور ڈالر سے چل رہی ہے۔ مارکیٹ میں اگلے سال دو شرح سود کمیوں کی توقع ہے، جو غیر پیداواری اثاثوں جیسے سونے کے لیے فائدہ مند ہے۔ کم شرح سود سے سرمایہ کاروں کو سونے میں دلچسپی بڑھتی ہے۔ پاکستان میں بھی یہ اضافہ مقامی مارکیٹ پر اثرانداز ہو رہا ہے جہاں سرمایہ کار سونے کو افراط زر سے تحفظ کے طور پر دیکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سونے کی فی تولہ قیمت میں سینکڑوں روپے کی کمی

نتیجہ

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 2026 میں مزید کمیاں اور کمزور امریکی روزگار سے سونے کو مزید بلندی مل سکتی ہے۔ تاہم، منافع کمانے کا خطرہ موجود ہے۔ پاکستان کے سرمایہ کاروں کو احتیاط سے مارکیٹ کی نگرانی کرنی چاہیے تاکہ مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں