لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے جدہ جانے والی ائیر سیال کی پرواز تین دن سے تاخیر کا شکار ہے، جس کی وجہ سے درجنوں مسافر ائیرپورٹ پر انتظار میں پھنس گئے ہیں۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ ائیر لائن نے بورڈنگ کارڈ جاری کیے اور تمام رسمی کارروائیاں مکمل کر لیں، مگر طیارہ اب تک نہیں اڑ سکا۔ زیادہ تر مسافر عمرہ کے زائرین ہیں، جنہیں پہلے تکنیکی خرابی اور پھر جدہ سے طیارے کی عدم آمد کی وجوہات بتائی گئیں۔ طویل انتظار کی وجہ سے کئی زائرین نے احرام اتار دیا، جبکہ ائیر لائن کے عملے کی جانب سے مسلسل "آج یا کل” کی یقین دہانیاں دی جاتی رہیں۔
مسافروں کی شکایات اور پریشانیاں
مسافروں نے بتایا کہ وہ تین دن سے ائیرپورٹ پر موجود ہیں اور کوئی واضح معلومات نہیں مل رہی۔ ایک زائر نے کہا کہ "ہم عمرہ کی تیاری میں احرام پہن کر آئے تھے، مگر اب انتظار کی وجہ سے سب کچھ برباد ہو رہا ہے۔” ائیرپورٹ پر کھانے پینے اور آرام کی سہولیات ناکافی ہیں، جس سے خاص طور پر بوڑھے اور بچوں کو تکلیف ہو رہی ہے۔ یہ واقعہ پاکستان میں ائیر لائنز کی تاخیر کے مسائل کو اجاگر کر رہا ہے، جو اکثر عمرہ اور حج زائرین کو متاثر کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مسجد نبوی میں طویل خدمت کرنے والے مؤذن انتقال کرگئے
ائیر لائن کی جانب سے دی جانے والی وجوہات
ائیر سیال کے مطابق، ابتدائی طور پر طیارے میں تکنیکی خرابی کا حوالہ دیا گیا، جسے انجینئرز ٹھیک کر رہے تھے۔ بعد میں بتایا گیا کہ طیارہ جدہ سے ہی نہیں آیا۔ مسافروں کو یقین دلایا جا رہا ہے کہ جلد حل ہو جائے گا، مگر تین دن گزرنے کے باوجود کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ پاکستان کی ائیر لائنز میں ایسے مسائل عام ہیں، خاص طور پر سعودی عرب جانے والی پروازوں میں، جو عمرہ سیزن میں بڑھتے ہیں۔
نتیجہ اور ممکنہ حل
یہ واقعہ ائیر لائنز کی ذمہ داریوں پر سوال اٹھاتا ہے اور مسافروں کے حقوق کو متاثر کر رہا ہے۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کو چاہیے کہ فوری نوٹس لے اور متاثرین کو معاوضہ دے۔ عمرہ زائرین کے لیے ایسے مسائل مذہبی فریضے میں رکاوٹ بنتے ہیں، لہٰذا ائیر لائنز کو اپنی سروس بہتر بنانی چاہیے تاکہ پاکستان سے سعودی عرب جانے والے مسافر محفوظ اور بروقت سفر کر سکیں۔
