منگل, مارچ 3, 2026
Homeعالمیبھارت میں کرسمس منانے پر مسیحی برادری کو دھمکیاں، مودی سرکار کی...

بھارت میں کرسمس منانے پر مسیحی برادری کو دھمکیاں، مودی سرکار کی خاموشی پر سوالات

بھارت میں مودی سرکار کے دور میں مسیحی اقلیت پر انتہا پسند عناصر کے مظالم میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ کرسمس کی تقریبات روکنے کے لیے بی جے پی کے عہدیدار گرجا گھروں میں داخل ہو کر دھونس اور دھمکیاں دے رہے ہیں، جبکہ مسیحیوں کو کہا جا رہا ہے کہ وہ یہ تہوار نہ منائیں ورنہ ملک سے نکال دیے جائیں گے۔ نئی دہلی میں ایک عوامی مقام پر کرسمس منانے والوں کو زبردستی نکالنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے، جبکہ چھتیس گڑھ میں انتہا پسندوں نے مسیحی گھروں کو نذر آتش کرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ سول سوسائٹی نے ان واقعات کی شدید مذمت کی ہے اور انہیں مذہبی آزادی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

انتہا پسندوں کے ہتھکنڈے اور حملے

بھارت کی مختلف ریاستوں میں انتہا پسند ہندو گروہ مسیحی برادری کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اڑیسہ میں سانتا کیپس بیچنے والے غریب دکانداروں کو ہراساں کیا جا رہا ہے، جہاں انتہا پسندوں نے دعویٰ کیا کہ یہ ‘ہندو راشٹر’ ہے اور مسیحی تہوار کی کوئی گنجائش نہیں۔ چھتیس گڑھ میں گزشتہ دنوں گھر جلانے کے واقعات نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ یہ حملے نہ صرف مسیحیوں کی مذہبی آزادی چھین رہے ہیں بلکہ اقلیتوں کے لیے بڑھتے ہوئے خوف کی علامت بھی ہیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو اور ردعمل

نئی دہلی کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ انتہا پسند مسیحیوں کو کرسمس منانے سے روکتے ہوئے علاقے سے نکال رہے ہیں۔ یہ ویڈیو تیزی سے پھیل رہی ہے اور لوگوں میں غم و غصہ پیدا کر رہی ہے۔ اسی طرح اڑیسہ کی ویڈیوز میں انتہا پسند دکانداروں کو دھمکا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین ان واقعات کو مودی سرکار کی خاموشی سے جوڑ رہے ہیں، جو انتہا پسندی کو بڑھاوا دے رہی ہے۔

نتیجہ

مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعات بھارت میں اقلیتوں کے لیے بڑھتے دباؤ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ گزشتہ دنوں بہار کے وزیر اعلیٰ کی جانب سے مسلم خاتون کا نقاب کھینچنے کا واقعہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ اگر سرکار نے انتہا پسندی پر خاموشی اختیار کی تو مذہبی ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچے گا۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس پر تشویش پائی جا رہی ہے، اور بھارتی حکومت کو فوری کارروائی کی ضرورت ہے۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں