انقرہ سے طرابلس جانے والا نجی جیٹ طیارہ اڑان بھرنے کے تقریباً چالیس منٹ بعد تکنیکی خرابی کی وجہ سے حادثے کا شکار ہوگیا، جس میں لیبیا کی حکومت کی حمایت یافتہ فوج کے چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل محمد علی احمد الحداد سمیت پانچ فوجی افسران جاں بحق ہوگئے۔ طیارے میں سوار تمام افراد کی ہلاکت کی تصدیق لیبیا کے وزیراعظم عبدالحمید الدبیبہ نے کی، جبکہ ترکی نے فضائی حدود کو عارضی طور پر بند کرکے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کردیا۔ یہ حادثہ 23 دسمبر 2025 کو پیش آیا، جو لیبیا کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔
حادثے کی تفصیلات ترکی کے دارالحکومت انقرہ کے ایسن بوغا ہوئرپورٹ سے شام آٹھ بجکر دس منٹ پر اڑان بھرنے والے فالکن 50 جیٹ نے طرابلس کی جانب پرواز کی۔ تقریباً تیس منٹ بعد طیارے کا ائیر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ منقطع ہوگیا اور اس نے ہنگامی لینڈنگ کی کوشش کی، مگر حیمانہ کے قریب گر کر تباہ ہوگیا۔ رپورٹس کے مطابق، طیارے میں برقی خرابی پیدا ہوئی تھی۔ جنرل الحداد ترکی کے دورے پر تھے جہاں انہوں نے ترک وزیر دفاع یشار گلر اور دیگر اعلیٰ افسران سے ملاقات کی تھی، جو دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون بڑھانے پر مرکوز تھی۔
لیبیا اور ترکی کا ردعمل لیبیا کے وزیراعظم الدبیبہ نے اسے قوم اور فوج کے لیے بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ افسران ملک کی خدمت میں مصروف تھے۔ ترکی کے وزیر داخلہ علی یرلی کایا نے بتایا کہ طیارے کی باقیات مل گئی ہیں اور تحقیقات شروع ہیں۔ ترکی نے فضائی ٹریفک کو معطل کرکے سیکیورٹی الرٹ جاری کیا۔ دونوں ممالک کے درمیان فوجی روابط مضبوط ہیں، اور یہ حادثہ علاقائی استحکام پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: دن کے اوقات میں ڈمپروں اور ہیوی ٹریفک کے داخلے پر پابندی عائد
نتیجہ یہ حادثہ لیبیا کی فوج کے لیے ایک دھچکا ہے، جہاں جنرل الحداد 2020 سے چیف آف اسٹاف تھے۔ تحقیقات میں تکنیکی خرابی کو بنیادی وجہ قرار دیا جارہا ہے، مگر مکمل رپورٹ کا انتظار ہے۔ علاقائی امن کے لیے دونوں ممالک کا تعاون جاری رہے گا۔
