کابل: افغانستان کے دارالحکومت کابل کے علاقے بوٹخاک میں جمعے کی صبح ایک پراسرار دھماکے میں طالبان کی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ عبد الحق واثق کے معاون مولوی نعمان ہلاک ہو گئے۔ مقامی ذرائع کے مطابق یہ واقعہ مولوی نعمان کے گھر کے اندر پیش آیا، جہاں دھماکے سے ان کا بیٹا بھی زخمی ہوا۔ شبہ ہے کہ یہ دھماکہ گیس سلنڈر میں نصب بارودی مواد کے پھٹنے سے ہوا، تاہم طالبان حکام نے اب تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا۔ یہ واقعہ افغانستان میں جاری عدم استحکام کی عکاسی کرتا ہے، جہاں ایسے حملے طالبان حکومت کے لیے چیلنج بن رہے ہیں۔
واقعہ کی تفصیلات
افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ دھماکہ 27 دسمبر 2025 کو صبح تقریباً 7 بجے بوٹخاک کے رہائشی علاقے میں مولوی نعمان کے گھر میں ہوا۔ مولوی نعمان، جو طالبان کی جنرل انٹیلی جنس کے ڈپٹی تھے، موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ ان کے بیٹے کو شدید زخم آئے، جنہیں فوری طور پر طبی امداد دی گئی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے کی آواز دور دور تک سنائی دی، اور علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ تاحال یہ واضح نہیں کہ یہ ایک حادثہ تھا یا کسی دشمن گروپ کی کارروائی۔ افغانستان میں ایسے واقعات میں اکثر داعش خراسان یا دیگر مخالف گروہوں کا ہاتھ ہوتا ہے، لیکن اس کیس میں کوئی دعویٰ سامنے نہیں آیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم نے مظفر آباد میں جدیدکینسر اسپتال اور میڈیکل کالج کا افتتاح کردیا
طالبان کا ردعمل اور ممکنہ وجوہات
طالبان حکومت نے اس واقعے پر خاموشی اختیار کی ہے، جو ان کی داخلی سیکیورٹی کی کمزوریوں کو ظاہر کرتی ہے۔ عبد الحق واثق، جو طالبان کی انٹیلی جنس کے سربراہ ہیں، ایک اہم شخصیت ہیں اور ان کے معاون کی ہلاکت حکومت کے لیے بڑا دھچکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دھماکہ گیس سلنڈر میں چھپائے گئے بارودی مواد سے ہو سکتا ہے، جو ایک سوفسٹی کیٹیڈ حملہ کی نشاندہی کرتا ہے۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہونے کے بعد سے ایسے حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جو ملک کی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ پاکستان اور دیگر پڑوسی ممالک بھی اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ یہ علاقائی استحکام کو متاثر کر سکتا ہے۔
نتیجہ
یہ واقعہ افغانستان میں جاری تشدد کی ایک اور مثال ہے، جو طالبان کی حکمرانی کو چیلنج کر رہا ہے۔ اگرچہ طالبان نے ملک پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے، لیکن داخلی حملے اور مخالف گروہوں کی کارروائیاں جاری ہیں۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ افغانستان کی صورتحال پر توجہ دے تاکہ مزید انسانی جانوں کا ضیاع روکا جا سکے۔ پاکستان، جو افغانستان کا پڑوسی ہے، کو بھی اس سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے، اس لیے دونوں ممالک کے درمیان تعاون ضروری ہے۔
