لاہور: ڈپٹی کمشنر لاہور سید موسیٰ رضا نے بسنت 2026 کے انعقاد کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا، جس کے تحت ضلع لاہور میں پتنگ بازی کی مشروط اجازت دی گئی ہے۔ یہ اجازت صرف 6، 7 اور 8 فروری 2026 کو ہوگی جبکہ پتنگ بازی کا سامان یکم سے 8 فروری تک فروخت کیا جا سکے گا۔ انسانی جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتے ہوئے ممنوعہ ڈور کے استعمال اور فروخت پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کی اہم تفصیلات
نوٹیفکیشن کے مطابق پتنگ بازی صرف مقررہ تاریخوں میں لاہور کی حدود تک محدود رہے گی۔ چرخیاں بنانے یا بیچنے پر سختی سے پابندی ہوگی اور ڈور صرف پنے کی شکل میں دستیاب ہوگی۔ نائیلون، پلاسٹک یا دھاتی تار والی ڈور کے استعمال پر زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ کی جائے گی۔ پتنگ اور ڈور بنانے والوں کی رجسٹریشن لازمی قرار دے دی گئی ہے جبکہ موٹر سائیکل سواروں کو سیفٹی وائر نصب کرنا ضروری ہوگا۔ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔
حفاظتی اقدامات اور اپیل
ڈپٹی کمشنر سید موسیٰ رضا نے کہا کہ بسنت لاہور کی قدیم ثقافتی روایت ہے مگر انسانی جانوں کا تحفظ سب سے اہم ہے۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ بچوں کو ممنوعہ ڈور سے دور رکھیں۔ قانون کی پاسداری کرنے والوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا جبکہ خلاف ورزی پر سامان ضبط اور قانونی کارروائی ہوگی۔ پتنگ کا سائز بھی مقرر limits تک محدود رکھا گیا ہے تاکہ کوئی حادثہ پیش نہ آئے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلا دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا 80 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں
نتیجہ: ثقافتی تہوار کی محفوظ واپسی
یہ نوٹیفکیشن تقریباً دو دہائیوں بعد بسنت کی بحالی کا سنگ میل ہے، جو پنجاب حکومت کی کوششوں سے ممکن ہوا۔ سخت ضابطوں کے ساتھ یہ تہوار شہریوں کو خوشی فراہم کرے گا مگر حفاظت کو یقینی بنانا سب کی ذمہ داری ہے۔ لاہوریوں سے توقع ہے کہ وہ قواعد کی پابندی کریں گے تاکہ یہ جشن یادگار اور حادثات سے پاک رہے۔
