یوکرین نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی رہائش گاہ پر ڈرون حملوں کے الزامات کو جھوٹ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ روس یہ دعوے امن مذاکرات کو ناکام بنانے اور یوکرین پر حملے جاری رکھنے کے جواز کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے دعویٰ کیا کہ یوکرین نے نووگورود علاقے میں پیوٹن کی رہائش گاہ پر 91 لانگ رینج ڈرونز فائر کیے، جو سب کو مار گرایا گیا۔ زیلنسکی نے اسے ریاستی دہشت گردی کا الزام روس پر پلٹاتے ہوئے عالمی برادری سے خاموش نہ رہنے کی اپیل کی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بسنت 2026 کی مشروط اجازت، ممنوعہ ڈور کے استعمال اور بیچنے پر پابندی
زیلنسکی کا بیان اور ردعمل
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اپنے حالیہ پیغام میں روس کے الزامات کو بالکل بے بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو ماضی میں کیف کی سرکاری عمارتوں کو نشانہ بناتا رہا ہے، اور اب یہ الزامات امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کی سازش ہیں۔ زیلنسکی کا کہنا ہے کہ روس کو پائیدار امن کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ یہ بیان یوکرین روس جنگ کے تناظر میں اہم ہے، جہاں پاکستان سمیت عالمی سطح پر امن کی اپیل کی جا رہی ہے۔
روسی الزامات کی تفصیلات
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا کہ یوکرین نے 28 اور 29 دسمبر کے درمیان پیوٹن کی نووگورود رہائش گاہ پر 91 ڈرون حملے کیے، جو سب ناکام بنا دیے گئے۔ انہوں نے اسے یوکرین کی غیر ذمہ دارانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے سخت جواب دینے کی دھمکی دی۔ روس کا دعویٰ ہے کہ یہ حملہ ریاستی دہشت گردی ہے، جو یوکرین روس تنازع کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔
نتیجہ
یہ تنازع یوکرین روس جنگ کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے، جہاں امن مذاکرات کی امید کمزور پڑ رہی ہے۔ عالمی برادری کو اس پر توجہ دینی چاہیے تاکہ علاقائی استحکام برقرار رہے۔ پاکستان جیسے ممالک کو بھی اس صورتحال پر نظر رکھنی چاہیے، کیونکہ یہ عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی کو متاثر کر سکتی ہے۔
