برطانیہ کی ملکہ کمیلا نے بی بی سی ریڈیو کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں اپنے ساتھ پیش آنے والے ایک پرانے واقعے کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ 16 یا 17 سال کی تھیں تو ایک ٹرین کے سفر کے دوران ایک اجنبی شخص نے انہیں ہراساں کرنے کی کوشش کی۔ ملکہ نے حاضر دماغی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا جوتا اتار کر اس شخص پر حملہ کیا اور خود کو بچایا۔ یہ واقعہ ان کے لیے کئی سالوں تک صدمے کا باعث بنا اور اب بھی گھریلو تشدد کی باتوں پر انہیں یاد آجاتا ہے۔
واقعے کی تفصیلات
ملکہ کمیلا نے انٹرویو کے دوران بتایا کہ وہ ٹرین میں بیٹھی کتاب پڑھ رہی تھیں جب اچانک ایک اجنبی شخص نے ان پر حملہ کردیا اور ہراسانی شروع کی۔ یہ واقعہ 1960 کی دہائی کا ہے جب وہ نوجوان تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت کی صورت حال بہت خوفناک تھی اور یہ تجربہ انہیں زندگی بھر یاد رہا۔ برطانیہ میں خواتین کی حفاظت اور ہراسانی کے خلاف آواز اٹھانے والے حلقوں میں یہ انکشاف اہم سمجھا جا رہا ہے۔
اس واقعے نے ملکہ کو گھریلو تشدد اور خواتین کی حفاظت کے مسائل پر مزید کام کرنے کی ترغیب دی۔
ملکہ کا ردعمل اور اثرات
ملکہ نے بتایا کہ انہوں نے اپنی والدہ کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے فوری طور پر مزاحمت کی۔ جوتا اتار کر اس شخص کو مارنے کے بعد وہ ٹرین سے اتر گئیں۔ یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب ملکہ گھریلو تشدد کے خلاف مہم چلا رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات خواتین کو خاموش نہیں رہنا چاہیے بلکہ آواز اٹھانی چاہیے۔ پاکستان میں بھی ہراسانی کے واقعات عام ہیں، اور یہ کہانی خواتین کو حوصلہ دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: روس کے ساتھ جنگ بندی معاہدہ محض 10 فیصد دوری پر ہے: زیلنسکی
نتیجہ
یہ انکشاف نہ صرف ملکہ کمیلا کی ذاتی زندگی کی جھلک دکھاتا ہے بلکہ عالمی سطح پر خواتین کے مسائل کو اجاگر کرتا ہے۔ برطانیہ کی ملکہ کی یہ کہانی دنیا بھر کی خواتین کو مزاحمت کی اہمیت سکھاتی ہے۔ پاکستان جیسے ممالک میں جہاں ہراسانی ایک سنگین مسئلہ ہے، یہ واقعہ بحث کو مزید آگے بڑھا سکتا ہے۔
