پاکستان سے افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل تیزی سے جاری ہے، جہاں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں گیارہ ہزار چھ سو کے قریب افراد کو ان کی سرزمین افغانستان واپس بھیج دیا گیا۔ سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مجموعی طور پر اب تک سولہ لاکھ نوے ہزار سے زائد مہاجرین وطن لوٹ چکے ہیں، جبکہ نئی پالیسی کے تحت اب بغیر پاسپورٹ یا ویزہ کے پاکستان میں داخلہ ممکن نہیں رہے گا۔ یہ اقدام قومی سلامتی اور باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوشش کا حصہ ہے۔
حالیہ اعداد و شمار اور واپسی کا رجحان
سرکاری ذرائع کے مطابق، ترکہام اور چمن سرحدوں سے مہاجرین کی واپسی کا سلسلہ نومبر 2025 میں خاص طور پر تیز ہوا ہے۔ صرف ایک دن میں گیارہ ہزار چھ سو مہاجرین کو سہولیات مہیا کر کے واپس بھیجا گیا، جو مجموعی اعداد میں اضافہ کا باعث بنا۔ اب تک سولہ لاکھ نوے ہزار مہاجرین نے پاکستان کو الوداع کہا ہے، جو افغان تنازعات کے بعد کی مہاجرت کی بڑی تعداد کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ اعداد و شمار وزارت داخلہ اور سرحدی اداروں کی رپورٹس پر مبنی ہیں، جو مہاجرین کی باعزت واپسی کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہیں۔
نئی سرحدی پالیسی اور اس کے اثرات
حکومت کی جانب سے نافذ کردہ نئی پالیسی کے تحت، اب کوئی بھی افغان شہری بغیر دستاویزات کے پاکستان میں داخل نہیں ہو سکے گا، جو غیر قانونی مہاجرت کو روکنے کا اہم قدم ہے۔ اس پالیسی نے واپسی کے عمل کو منظم کیا ہے، جہاں فرنٹیئر کور اور سول انتظامیہ رہائش، خوراک اور طبی امداد فراہم کر رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام پاک افغان تعلقات کو باہمی احترام پر استوار کرے گا، اگرچہ انسانی حقوق کی تنظیمیں مہاجرین کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان، وجہ بھی سامنے آگئی
نتیجہ: مستحکم مستقبل کی بنیاد
افغان مہاجرین کی واپسی پاکستان کے لیے قومی سلامتی کا اہم مرحلہ ہے، جو سرحدوں کو محفوظ بناتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنا سکتا ہے۔ اگرچہ چیلنجز موجود ہیں، مگر باعزت واپسی کی یہ کوشش ایک نئے دور کی ابتداء ہے۔ مستقبل میں دوطرفہ تعاون سے مہاجرین کی بحالی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے، جو علاقائی استحکام کی ضمانت دے گا۔
