فرانسیسی طیارہ ساز کمپنی ائیربس نے اپنے مقبول اے320 فیملی طیاروں کے سافٹ ویئر میں فوری اپ ڈیٹ کا اعلان کر دیا ہے، جس سے دنیا بھر میں تقریباً چھ ہزار طیارے متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ یہ فیصلہ اکتوبر میں جٹ بلیو ایئر لائنز کی ایک پرواز کے دوران پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات کے بعد کیا گیا، جہاں شدید شمسی تابکاری نے فلائٹ کنٹرول سسٹم کا ڈیٹا خراب کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں طیارہ اچانک نیچے کی طرف جھک گیا اور متعدد مسافر زخمی ہو گئے۔ مختلف ایئر لائنز نے پروازوں میں تاخیر اور خلل کا انتباہ جاری کر دیا ہے، جو عالمی ایوی ایشن کو چیلنج کر رہا ہے۔
واقعہ اور وجہ 30 اکتوبر کو میکسیکو کے کینکون سے امریکہ کے نیوآرک جانے والی جٹ بلیو کی پرواز کے دوران طیارہ اچانک بلندی کھو بیٹھا، جس سے کم از کم 15 مسافر بری طرح زخمی ہوئے۔ ائیربس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ شدید شمسی تابکاری (سولر ریڈی ایشن) نے اِلویٹر اَیلرون کمپیوٹر (ای ایل اے سی) کا ڈیٹا کرپٹ کر دیا، جو فلائٹ کنٹرولز کے لیے اہم ہے۔ یہ ‘بٹ فلیپ’ کی صورتحال ہے، جہاں تابکاری کی وجہ سے کمپیوٹر کی میموری میں 0 اور 1 کی جگہ تبدیل ہو جاتی ہے۔ یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی (ای ایس اے) نے ایمرجنسی ایئر ورتھiness ڈائریکٹو جاری کیا، جس کے تحت طیاروں کو اڑان بھرنے سے پہلے تین گھنٹے میں اپ ڈیٹ یا ہارڈ ویئر تبدیل کرنا ہو گا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا نے افغان پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزے معطل کر دیے، پناہ کی درخواستوں پر بھی کام روک دیا
متاثرہ ایئر لائنز اور پروازوں پر اثرات امریکن ایئر لائنز، ڈیلٹا، جٹ بلیو، یونائیٹڈ، ائیر نیوزی لینڈ، ترکش ایئر لائنز اور آسٹریلین ایئر لائنز سمیت متعدد کمپنیاں اس اپ ڈیٹ سے متاثر ہیں۔ امریکن ایئر لائنز نے بتایا کہ ان کے 480 میں سے 340 طیاروں پر کام شروع ہو گیا ہے، جو دو سے تین گھنٹے لے گا۔ سعودی ایئر لائنز نے بھی کچھ پروازوں میں تاخیر کا اعلان کیا ہے، جبکہ برطانوی ایوی ایشن اتھارٹی نے شیڈول میں خلل کا خدشہ ظاہر کیا۔ تھینکس گیونگ ہالیڈیز کے دوران یہ اپ ڈیٹس پروازوں کی بکنگ اور شیڈولنگ کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں، خاص طور پر امریکہ اور یورپ میں۔
نتیجہ ائیربس کا یہ اقدام مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اہم ہے، مگر یہ عالمی ایوی ایشن انڈسٹری کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ کمپنی نے ایئر لائنز اور ریگولیٹرز کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، تاکہ تاخیریں کم سے کم ہوں۔ پاکستانی مسافر جو ان ایئر لائنز سے سفر کرتے ہیں، انہیں اپنی پروازوں کی تازہ ترین اپ ڈیٹس چیک کرنے کی ہدایت کی جائے۔ یہ واقعہ ٹیکنالوجی اور قدرتی عوامل کے درمیان توازن کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، جو مستقبل کی ایوی ایشن پالیسیوں کو متاثر کر سکتا ہے۔
