پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور مسلم لیگ (ن) نے آزاد کشمیر کے وزیراعظم چوہدری انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر دستخط کر دیے ہیں، جو آج جمع کرائے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق چوہدری انوارالحق نے استعفے کے لیے مشروط رضامندی ظاہر کی ہے، جبکہ پی پی پی نے نئے وزیراعظم کے لیے چوہدری یاسین اور چوہدری لطیف اکبر کو مضبوط امیدوار قرار دیا ہے۔ صدر آصف زرداری کا خصوصی ایلچی نئے قائد ایوان کا نام لے کر مظفرآباد پہنچے گا۔
تحریک عدم اعتماد کی تیاری پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) نے مل کر چوہدری انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق تحریک جمع کرانے سے قبل نئے قائد ایوان کا نام حتمی کیا جائے گا، جو آزاد کشمیر کے آئین کے تحت لازمی ہے۔ صدر آصف زرداری کے خصوصی ایلچی کی جانب سے یہ نام سیل بند خط میں مظفرآباد پہنچایا جائے گا۔ مسلم لیگ (ن) نے واضح کیا کہ وہ تحریک کی حمایت کرے گی لیکن نئی حکومت کا حصہ نہیں بنے گی اور اپوزیشن بینچوں پر بیٹھے گی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور کو 871 ملین روپے کا ہائی ٹیک وہیکل مانیٹرنگ سنٹر ملے گا
چوہدری انوارالحق کا موقف چوہدری انوارالحق نے استعفے کے لیے مشروط رضامندی ظاہر کی ہے، لیکن انہوں نے حامی وزرا اور اراکین اسمبلی کے لیے ترقیاتی فنڈز اور جاری منصوبوں کی گارنٹی مانگی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ تحریک عدم اعتماد کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔ دوسری جانب، پی پی پی نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے تحریک کے لیے مطلوبہ 27 اراکین کی حمایت حاصل ہے، جس میں پی ٹی آئی فارورڈ بلاک کے 10 اراکین بھی شامل ہیں۔
نتیجہ آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کی مشترکہ حکمت عملی سے چوہدری انوارالحق کی وزارت عظمیٰ خطرے میں ہے۔ نئے وزیراعظم کے نام کے اعلان کے ساتھ ہی مظفرآباد میں سیاسی منظرنامہ واضح ہوگا۔ عوام اور سیاسی حلقے اس اہم تبدیلی کے اثرات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
