کوئٹہ: بلوچستان حکومت نے نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ گاڑیاں دہشت گردی کے واقعات میں استعمال ہو رہی ہیں، اور صوبے میں تقریباً ڈیڑھ سے دو لاکھ ایسی گاڑیاں موجود ہیں۔ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، پولیس، کسٹم اور فرنٹیئر کور مل کر یہ آپریشن کریں گے۔ مستونگ میں حالیہ چھاپے میں آٹھ کروڑ دس لاکھ روپے کی گیارہ گاڑیاں برآمد ہوئیں، جبکہ محکمہ ایکسائز نے چالیس ہزار سے زائد گاڑیوں کی پروفائلنگ مکمل کر لی ہے۔
کارروائی کی وجوہات اور پس منظر
نان کسٹم پیڈ گاڑیاں بلوچستان میں اسمگلنگ اور دہشت گردی کی سرگرمیوں کا اہم ذریعہ بن چکی ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، ان گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے سیکیورٹی خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ صوبائی سطح پر یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا کہ یہ گاڑیاں اکثر جرائم میں استعمال ہوتی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
حالیہ آپریشنز اور نتائج
مستونگ میں کسٹم حکام نے ایک گودام پر چھاپہ مار کر گیارہ نان کسٹم پیڈ گاڑیاں قبضے میں لیں، جن کی مالیت آٹھ کروڑ دس لاکھ روپے ہے۔ محکمہ ایکسائز کے مطابق، اب تک چالیس ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی تفصیلات جمع کی جا چکی ہیں، اور روزانہ کی بنیاد پر کارروائیاں جاری ہیں۔ یہ اقدامات صوبے بھر میں پھیلے ہوئے ہیں تاکہ اسمگلنگ کو روکا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی کا اڈیالہ جیل کے قریب دھرنا ختم،منگل کو دوبارہ اڈیالہ آنےکی تجویز پر اتفاق
نتیجہ اور ممکنہ اثرات
یہ کارروائی بلوچستان میں امن کی بحالی کے لیے اہم قدم ہے، مگر شہریوں کو ممکنہ مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدامات طویل مدتی فائدہ مند ہوں گے اور اسمگلنگ کی روک تھام کریں گے۔ عوام سے تعاون کی اپیل کی گئی ہے تاکہ صوبے کو محفوظ بنایا جا سکے۔
