منگل, مارچ 3, 2026
Homeعالمیبنگلادیش: سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو کرپشن کیس میں 21 سال قید...

بنگلادیش: سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو کرپشن کیس میں 21 سال قید کی سزا

ڈھاکہ: بنگلادیش کی عدالت نے جمعرات کو سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو کرپشن کے الزامات پر 21 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ یہ فیصلہ ان کے خلاف قیمتی سرکاری زمینوں پر غیر قانونی قبضے کے تین مقدمات سے متعلق ہے، جو انسدادِ بدعنوانی کمیشن نے درج کیے تھے۔ اس کے ایک ہفتے قبل ہی انہیں انسانیت کے خلاف جرائم میں سزائے موت کا حکم دیا جا چکا ہے، جبکہ ان کے بیٹے اور بیٹی کو بھی پانچ پانچ سال کی قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ شیخ حسینہ، جو اگست 2024 میں طلبہ احتجاج کے دوران بھارت فرار ہو گئی تھیں، اب جلاوطن زندگی گزار رہی ہیں۔

مقدمات کی تفصیل

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ شیخ حسینہ نے سرکاری زمین کو ذاتی جائیداد سمجھا اور ریاستی وسائل کا ناجائز استعمال کیا۔ ڈھاکہ کے نواحی علاقوں میں قیمتی پلاٹوں پر قبضے کے ان مقدمات میں انہوں نے اپنے قریبی رشتہ داروں کے فائدے کے لیے ہیرا پھیری کی۔ انسدادِ بدعنوانی کمیشن کی تحقیقات کے مطابق، یہ سب کچھ ان کی 15 سالہ حکومت کے دوران ہوا، جس نے بنگلادیش کی معیشت پر گہرے دھبے لگائے۔

خاندان اور سیاسی اثرات

شیخ حسینہ کے امریکا میں مقیم بیٹے ساجد واجد اور بیٹی سائمہ واجد، جو اقوام متحدہ کی سابقہ اہلکار تھیں، کو بھی پانچ سال قید کی سزائیں ہوئیں۔ یہ فیصلے ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد کی قانونی کارروائیوں کا حصہ ہیں، جو طلبہ کی تحریک نے جنم دیا تھا۔ گزشتہ سال کی پرتشدد مظاہروں میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جس کے نتیجے میں شیخ حسینہ 5 اگست 2024 کو ہیلی کاپٹر سے بھارت بھاگ گئی تھیں۔

پس منظر اور مستقبل

یہ سزائیں بنگلادیش کی نئی حکومت کی جانب سے احتساب کی مہم کا حصہ ہیں، جو عوامی مطالبات پر مبنی ہے۔ شیخ حسینہ کی عوامی جماعتِ عوامی لیگ اب کمزور ہو چکی ہے، جبکہ ان کی واپسی کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔ پاکستانی قارئین کے لیے یہ خبر بنگلادیش کی سیاسی عدم استحکام کی عکاسی کرتی ہے، جو جنوبی ایشیا کی علاقائی سیاست پر اثرات ڈال سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی میں پہلی وقف شدہ ایمبولینس لین کا آغاز

نتیجہ: شیخ حسینہ کی یہ سزائیں بنگلادیش میں احتساب کے نئے دور کی نشاندہی کرتی ہیں، جو کرپشن اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف لڑائی کو مضبوط بنائیں گی۔ جنوبی ایشیا میں جمہوریت کی بحالی کے لیے یہ ایک اہم قدم ہے، جو پاکستان جیسے ممالک کو بھی سبق دے سکتا ہے۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں