منگل, مارچ 3, 2026
Homeعالمیمغربی افریقی ملک بینن میں فوجی بغاوت کی کوشش، حکومت کا دوبارہ...

مغربی افریقی ملک بینن میں فوجی بغاوت کی کوشش، حکومت کا دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ

مغربی افریقہ کے ملک بینن میں اتوار کی صبح فوجی بغاوت کی کوشش کی گئی، جس میں ایک چھوٹے گروپ نے سرکاری ٹیلی ویژن پر صدر پٹریس ٹیلون کی برطرفی اور آئین کی معطلی کا اعلان کیا، تاہم اندرونی امور کے وزیر علاسانہ سیدیو نے اعلان کیا ہے کہ وفادار فوج نے بغاوت ناکام بنا دی اور صورتحال مکمل طور پر قابو میں آ گئی ہے۔ صدر ٹیلون محفوظ ہیں اور سرحدوں سمیت تمام اہم مقامات پر حکومت کا کنٹرول بحال ہو چکا ہے۔

بغاوت کا آغاز اور باغیوں کا بیان

بینن کی راجدھانی کوٹونو میں صبح سویرے ایک فوجی دستے نے سرکاری نشریاتی ادارے پر قبضہ کر لیا اور ٹی وی پر نشر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ فوج نے اقتدار سنبھال لیا ہے۔ باغیوں نے، جن کی قیادت پاسکل ٹیگری کر رہے تھے، سیاسی جماعتوں کی سرگرمیاں معطل، سرحدیں بند اور تمام اداروں کی تحلیل کا اعلان کیا۔ انہوں نے عوام کو "نئے دور” کی امید دلانے کا عہد کیا، مگر یہ کوشش صرف چند گھنٹوں تک محدود رہی۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ دستہ بہت چھوٹا تھا اور ملک کی اکثریت فوج صدر ٹیلون کی حمایت میں تھی۔

یہ بھی پڑھیں: موٹروے پولیس نے دھند میں سفر کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کر دیں

حکومت کا فوری ردعمل

صدارتی ترجمان اور اندرونی امور کے وزیر نے فوری طور پر فیس بک اور قومی ٹی وی پر بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ یہ "چھوٹا سا گروہ” صرف نشریاتی مرکز تک محدود تھا اور اصل فوج نے تیزی سے کارروائی کی۔ وزیر خارجہ اولوشیگون اجادی بیکاری نے بھی تصدیق کی کہ صدر ٹیلون فرانسیسی سفارت خانے میں محفوظ ہیں اور الیکشن سے قبل استحکام برقرار رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بی بی سی اور الجزیرہ جیسی ایجنسیوں نے رپورٹ کیا کہ یہ واقعہ 2016 سے اقتدار میں آنے والے صدر ٹیلون کی دوسری مدت کے خاتمے سے پہلے ہوا، جب اگلے سال اپریل میں صدارتی انتخابات متوقع ہیں۔

علاقائی اثرات اور مستقبل کی توقعات

مغربی افریقہ میں حالیہ برسوں میں مالی، نائیجر اور برکینا فاسو جیسی بغاوتوں کے بعد یہ واقعہ علاقائی استحکام پر سوالات اٹھاتا ہے۔ یورپی یونین اور فرانس نے حکومت کی حمایت کا اعلان کیا ہے، جبکہ افریقی یونین تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ کوشش الیکشن سے پہلے سیاسی عدم استحکام کی عکاسی کرتی ہے، مگر حکومت کی تیز ردعمل نے ممکنہ بحران کو روک دیا۔

نتیجہ: استحکام کی بحالی

بینن کی حکومت نے بغاوت کو کامیابی سے ناکام بنا کر اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے، جو ملک کے جمہوری عمل کو برقرار رکھنے میں اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم، فوجی مداخلت کی یہ کوشش علاقائی سطح پر تشویش کا باعث بن رہی ہے اور بینن کو لمبے عرصے کے استحکام کے لیے اصلاحات کی ضرورت ہے۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں