منگل, مارچ 3, 2026
Homeپاکستانوزارت خارجہ کے ڈیمارش پر ترجمان برطانوی ہائی کمیشن کا ردعمل سامنے...

وزارت خارجہ کے ڈیمارش پر ترجمان برطانوی ہائی کمیشن کا ردعمل سامنے آگیا

پاکستانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے دیے گئے ڈیمارش پر برطانوی ہائی کمیشن کا باضابطہ ردِعمل سامنے آ گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ میں پولیس اور پراسیکیوشن حکومت سے آزاد ہو کر کام کرتے ہیں اور کسی بھی ممکنہ جرم کی جانچ برطانوی قانون کے تحت کی جاتی ہے۔

برطانوی ہائی کمیشن کا مؤقف

برطانوی ہائی کمیشن کے ترجمان کے مطابق اگر کسی غیر ملکی حکومت کو کسی جرم کا شبہ ہو تو متعلقہ شواہد پولیس لائژن افسران کو فراہم کیے جائیں۔ ترجمان نے واضح کیا کہ موصول ہونے والا مواد برطانوی پولیس قانون کے مطابق جانچتی ہے اور اگر قانون شکنی ثابت ہو جائے تو فوجداری تحقیقات شروع کی جا سکتی ہیں۔ ہر کیس کو انفرادی طور پر اور برطانوی قوانین کے تحت نمٹایا جاتا ہے۔

ڈیمارش کی وجہ اور پس منظر

یاد رہے کہ بریڈفورڈ میں ہونے والے ایک احتجاج کے بعد برطانوی ڈپٹی ہیڈ آف مشن کو وزارتِ خارجہ طلب کر کے ڈیمارش دیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق ایک سیاسی جماعت کے آفیشل اکاؤنٹ کو برطانیہ میں مظاہرین جمع کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ احتجاج کے دوران چیف آف ڈیفنس فورسز کے خلاف نہایت اشتعال انگیز اور قابلِ اعتراض زبان استعمال کی گئی، جبکہ فیلڈ مارشل کو جان سے مارنے کی دھمکیوں اور کار بم حملے جیسے بیانات بھی سامنے آئے۔

پاکستان کا سخت ردِعمل

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے برطانیہ کی سرزمین سے دی جانے والی ان دھمکیوں کا سخت نوٹس لیا ہے اور اس امر پر زور دیا ہے کہ برطانیہ اپنی سرزمین کو پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔ پاکستان نے سفارتی سطح پر واضح کیا ہے کہ ایسے اقدامات دو طرفہ تعلقات اور علاقائی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: تائیوان کو اسلحہ فروخت کرنے پر چین کا سخت ردِعمل، 20 امریکی کمپنیوں اور 10 افراد پر پابندیاں

نتیجہ
اس پیش رفت نے پاکستان اور برطانیہ کے سفارتی تعلقات میں ایک حساس پہلو کو اجاگر کیا ہے۔ جہاں پاکستان سیکیورٹی خدشات پر فوری کارروائی کا مطالبہ کر رہا ہے، وہیں برطانیہ نے اپنے قانونی نظام کی خودمختاری پر زور دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں شواہد کی جانچ اور قانونی عمل اس معاملے کی سمت کا تعین کرے گا۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں