برسلز: یورپی یونین کی زرعی پالیسی اور جنوبی امریکی ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدے کے خلاف کسانوں نے بیلجیم کے دارالحکومت میں بڑے پیمانے پر احتجاج کیا، جس میں سیکڑوں ٹریکٹروں سے سڑکیں بلاک کی گئیں، پولیس پر انڈے، آلو اور پتھر پھینکے گئے، جبکہ پولیس نے آنسو گیس اور پانی کی توپوں کا استعمال کرکے متعدد مظاہرین کو گرفتار کر لیا۔
احتجاج کی تفصیلات
یورپی یونین کی زرعی پالیسیوں کے خلاف کسانوں کا یہ احتجاج برسلز کی مرکزی سڑکوں پر پھیل گیا، جہاں مظاہرین نے ٹریفک کو مکمل طور پر معطل کر دیا۔ کسانوں کا دعویٰ ہے کہ مرکوسیور تجارتی معاہدہ یورپی مارکیٹ میں سستی درآمدات لائے گا، جو مقامی کسانوں کی معاشی حالت کو مزید خراب کرے گا۔ احتجاج کے دوران جلاؤ گھیراؤ کیے گئے اور کئی جگہوں پر تشدد کی صورتحال پیدا ہوئی۔
پولیس کی کارروائی اور جھڑپیں
مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جہاں کسانوں نے پولیس افسران پر انڈے اور آلو پھینکے جبکہ پتھراؤ بھی کیا گیا۔ جواب میں پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ کی اور پانی کی توپوں سے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔ متعدد افراد کو حراست میں لے لیا گیا، لیکن احتجاج جاری رہا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائی کورٹ کا 600 سی سی موٹر سائیکلوں پر پابندی کے فیصلے کا جائزہ
نتیجہ
یہ احتجاج یورپی یونین کی زرعی پالیسیوں پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے، جہاں کسانوں کے خدشات کو سنجیدگی سے لینے کی اپیل کی جا رہی ہے۔ اگر تجارتی معاہدے نافذ ہوئے تو یورپی کسانوں کو شدید معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اب تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، لیکن احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
