منگل, مارچ 3, 2026
Homeعالمیکینیڈا نے خالصتان ریفرنڈم کی باضابطہ اجازت دے دی، سکھ رہنما گربچن...

کینیڈا نے خالصتان ریفرنڈم کی باضابطہ اجازت دے دی، سکھ رہنما گربچن سنگھ کا اعلان

کینیڈا کی حکومت نے سکھ برادری کی طویل جدوجہد کو تسلیم کرتے ہوئے خالصتان ریفرنڈم کی رسمی اجازت جاری کر دی ہے۔ سکھ فار جسٹس کے جنرل کونسل گرپتونت سنگھ پنون نے اعلان کیا کہ 23 نومبر کو اوٹاوا کے بلنگز اسٹیٹ نیشنل ہسٹورک سائٹ پر یہ ریفرنڈم منعقد ہوگا۔ یہ منظوری کینیڈا کی آزادی اظہار اور جمہوری اقدار کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ بھارتی حکومت کی جانب سے تشدد آمیز مخالفت کو پرامن ووٹنگ کا جواب دیا جائے گا۔ پنون نے سکھ قوم سے پنجاب کی آزادی کے لیے بھرپور شرکت کی اپیل کی ہے، جو مودی کی داخلی و خارجی پالیسیوں پر عالمی دباؤ بڑھا رہی ہے۔

ریفرنڈم کا پس منظر اور اہمیت

خالصتان تحریک، جو پنجاب کی بھارتی قبضے سے آزادی کا مطالبہ کرتی ہے، اب کینیڈا جیسے جمہوری ملک میں پرامن طریقے سے آگے بڑھ رہی ہے۔ گرپتونت سنگھ پنون کے مطابق، یہ ریفرنڈم گولیوں کے مقابلے میں ووٹ کی طاقت کا مظاہرہ ہے۔ کینیڈا کی کارنی حکومت نے بلنگز اسٹیٹ کو اس مقصد کے لیے مختص کرنے کی اجازت دی، جو سکھوں کی سیاسی جدوجہد کی قانونی حیثیت کو مضبوط بناتی ہے۔ حالیہ ماہوں میں بھارتی ایجنٹوں کی سازشوں، جیسے ہنی یپ نججر کے قتل اور پنون کے خلاف قاتلانہ منصوبوں کی تحقیقات نے اس منظوری کو مزید اہمیت بخش دی ہے۔ سکھ برادری عالمی سطح پر تیاریوں میں مصروف ہے، اور ہزاروں افراد کے شرکت کی توقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مری اسنو سیزن 2025 کا آغاز، انتظامیہ نے سخت حفاظتی اقدامات نافذ کر دیے

سکھ برادری کی اپیل اور بھارتی ردعمل

پنون نے سکھ قوم سے مطالبہ کیا کہ وہ 23 نومبر کو بلنگز اسٹیٹ پہنچ کر پنجاب کی آزادی کے حق میں ووٹ دیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ریفرنڈم بھارتی مودی حکومت کی انتہا پسندانہ پالیسیوں کا پرامن جواب ہے، جو عالمی سطح پر اس کی ناکامیوں کو بے نقاب کر رہا ہے۔ بھارت نے اسے داخلی معاملہ قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی ہے، مگر کینیڈا کی یہ قدم سکھ حقوق کی حمایت میں ایک بڑا موڑ ہے۔ پاکستانی حلقوں میں بھی اسے بھارتی جارحیت کے خلاف مثبت پیش رفت سمجھا جا رہا ہے، جو علاقائی استحکام کے لیے اہم ہو سکتا ہے۔

اختتامی تاثرات

یہ ریفرنڈم نہ صرف سکھوں کی خود ارادیت کی جدوجہد کو تقویت دے گا بلکہ بھارتی حکومت پر دباؤ بڑھا کر علاقائی سیاست کو متاثر کر سکتا ہے۔ کینیڈا کی یہ منظوری جمہوریت کی فتح ہے، جو دیگر مظلوم قوموں کے لیے مثال بن سکتی ہے۔ پاکستانی میڈیا اور تجزیہ کار اسے بھارت کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کے خلاف عالمی مزاحمت کا حصہ سمجھ رہے ہیں۔ اب سب کی نظریں 23 نومبر پر جمی ہیں کہ ووٹ کی یہ لہر کس قدر طاقتور ثابت ہوتی ہے۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں