منگل, مارچ 3, 2026
Homeتفریحڈاکٹر وردہ قتل کیس کا مفرور ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا

ڈاکٹر وردہ قتل کیس کا مفرور ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا

ایبٹ آباد میں ڈاکٹر وردہ مشتاق کے اغوا اور قتل کے کیس میں مرکزی مفرور ملزم شمریز پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گیا۔ پولیس کے مطابق ٹھنڈیانی روڈ پر چھاپے کے دوران ملزم اور اس کے ساتھیوں نے فائرنگ کی، جس کے جواب میں شمریز مارا گیا۔ اس کیس میں ملزمہ ردا، اس کے شوہر سمیت چار افراد پہلے ہی گرفتار ہیں۔ ڈاکٹر وردہ نے اپنی دوست ردا کو 67 تولہ سونا امانت رکھوایا تھا، جو واپس کرنے کے بہانے انہیں اغوا کر کے قتل کیا گیا۔ لاش چار دن بعد لڑی بنوٹا سے ملی۔ ڈی پی او ہارون رشید کا کہنا ہے کہ اغوا کے ایک گھنٹے بعد ہی قتل کر دیا گیا تھا۔

کیس کی ابتدائی تفصیلات

ڈاکٹر وردہ کو 4 دسمبر کو ڈی ایچ کیو اسپتال کے باہر سے اغوا کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان انہیں جناح آباد کے زیر تعمیر مکان میں لے گئے، جہاں گلے دبا کر قتل کیا اور لاش ٹھنڈیانی کے قریب دفنا دی۔ یہ کیس سونے کی لالچ میں دوستی کے خاتمے کی افسوسناک مثال ہے۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ ردا اور اس کے ساتھیوں نے منصوبہ بندی کی تھی۔

پولیس کی کارروائی اور مقابلہ

پولیس نے دس دن تک چھاپے مارے اور آخر کار ٹھنڈیانی روڈ پر شمریز کو گھیر لیا۔ ملزم نے فائرنگ کی تو جوابی کارروائی میں وہ ہلاک ہوا، جبکہ اس کے ساتھی فرار ہو گئے۔ ڈی پی او کا کہنا ہے کہ یہ کیس میں اہم پیشرفت ہے۔

گرفتار ملزمان اور تحقیقات

کیس میں ردا، اس کا شوہر اور دو دیگر گرفتار ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تمام شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ پوسٹ مارٹم سے گلا گھونٹنے کی تصدیق ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت نے جنازوں میں کھانے کی تیاری اور تقسیم پر پابندی عائد کر دی

نتیجہ

یہ کیس پاکستان میں خواتین کی حفاظت اور دوستی میں دھوکے کی تلخ حقیقت کو اجاگر کرتا ہے۔ پولیس کی تیز کارروائی سے انصاف کی امید ہے، لیکن مکمل تحقیقات ضروری ہیں تاکہ کوئی مجرم بچ نہ سکے۔ عوام سے اپیل ہے کہ ایسے کیسز میں تعاون کریں۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں