دبئی: ۲۰۲۵ میں دبئی کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ نے ریکارڈ رفتار برقرار رکھی ہے، جہاں سال کے پہلے گیارہ ماہ میں جائیداد کی خرید و فروخت کی مالیت ۶۲۴.۱ ارب درہم (تقریباً ۴۷.۶۸ کھرب پاکستانی روپے) تک پہنچ گئی، جو پچھلے سال کے مقابلے میں ۴۹.۶ فیصد اضافہ دکھاتی ہے۔ دبئی لینڈ ڈیپارٹمنٹ (ڈی ایل ڈی) کے اعداد و شمار کے مطابق نومبر میں ۱۹,۰۱۹ سودے ہوئے جن کی کل مالیت ۶۴.۷ ارب درہم تھی، جبکہ سب سے مہنگا اپارٹمنٹ جو میراہ رہائشی علاقے میں واقع ہے، ۲۰۳ ملین درہم (۱۵.۵۱ ارب روپے) میں بیچا گیا۔ یہ اضافہ آف پلان منصوبوں کی مانگ اور سرمایہ کاروں کی دلچسپی کی بدولت ہے، جو پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے بھی دلکش مواقع پیدا کر رہا ہے۔
نومبر کے اعداد و شمار: ریکارڈ توڑ کاروبار
نومبر ۲۰۲۵ میں دبئی کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ نے ۳۰ فیصد زیادہ ٹرانزیکشنز ریکارڈ کیے، جو کل ۱۹,۰۱۶ سودوں پر مشتمل تھے۔ ان میں سے ۱۳,۳۷۴ آف پلان سیلز تھیں جن کی مالیت ۴۱.۴ ارب درہم تھی، جبکہ ری سیلز ۵,۶۴۵ سودے ۲۳.۳ ارب درہم کے برابر تھے۔ جو میراہ ول리지 سرکل سب سے فعال علاقہ رہا جہاں ۱,۴۲۶ سودے ۱.۹ ارب درہم کی مالیت کے ہوئے، اس کے بعد وادی ال صفاء ۵ اور بزنس بے شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار دکھاتے ہیں کہ دبئی کی جائیداد کی مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے، خاص طور پر لگژری اپارٹمنٹس اور ولاز میں۔
مہنگا ترین جائدادوں کی تفصیلات
نومبر میں سب سے مہنگا اپارٹمنٹ جو میراہ رہائشی اسورا بے میں ۲۰۳ ملین درہم میں فروخت ہوا، جو لگژری رہائش کی علامت ہے۔ اسی طرح، سب سے مہنگا ولا پام جو میراہ پر ۱۱۰ ملین درہم میں بیچا گیا۔ یہ سیلز دکھاتی ہیں کہ دبئی کی لگژری پراپرٹی کی مانگ عالمی سطح پر بڑھ رہی ہے، جہاں پاکستانی اور دیگر خلیجی سرمایہ کار فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ ماہانہ ۷۶۹ بڑے سودوں کی مالیت ۳.۵۱ ارب درہم تھی، جو مارکیٹ کی صحت مند حالت کی نشاندہی کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آج 2025 کا آخری سپر مون! پاکستان میں یہ کب نظر آئے گا؟
پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے مواقع
دبئی کی یہ ترقی پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے سنہری موقع ہے، جہاں آف پلان پراپرٹیز میں ۷۰ فیصد سے زائد سیلز ہو رہی ہیں۔ کم ٹیکس، مستحکم معیشت اور عالمی رسائی کی وجہ سے دبئی پاکستان سے سرمایہ کاروں کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ۲۰۲۶ میں بھی یہ رجحان جاری رہے گا، جو پاکستانیوں کو مستقل آمدنی کے ذرائع فراہم کرے گا۔
نتیجہ: مستقبل کی جھلک
دبئی کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کی یہ ریکارڈ توڑ کارکردگی ۲۰۲۵ کو یادگار بناتی ہے، جہاں مستحکم ترقی اور لگژری سیلز نے عالمی توجہ حاصل کی ہے۔ پاکستانی سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ آف پلان مواقع کا فائدہ اٹھائیں، کیونکہ اگلی سال مزید اضافہ متوقع ہے۔ یہ مارکیٹ نہ صرف معاشی استحکام کی علامت ہے بلکہ مستقبل کی سرمایہ کاری کی بنیاد بھی رکھتی ہے۔
