منگل, مارچ 3, 2026
Homeپاکستانوفاقی کابینہ کا اہم اجلاس آج طلب، 27 ویں آئینی ترمیم کی...

وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس آج طلب، 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری متوقع

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس آج طلب کیا گیا ہے جہاں 27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ منظور ہونے کا قوی امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں ترمیم پر بریفنگ دی جائے گی اور اس کی منظوری کے بعد سینیٹ میں بھی پیش کیا جائے گا۔ متحدہ قومی موومنٹ نے بلدیاتی نظام کے مطالبات پر یقین دہانی کے بعد حمایت کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ترمیم کے بیشتر نکات مسترد کر دیے ہیں، البتہ آرٹیکل 243 میں تبدیلی کی حمایت کی ہے۔ یہ ترمیم مقامی حکومتوں کے اختیارات، این ایف سی فارمولے اور عدالتی نظام میں اہم تبدیلیاں لائے گی، جو پاکستان کی سیاسی استحکام کو متاثر کر سکتی ہے۔

حکومتی تیاریاں اور اتحادیوں کی حمایت وفاقی کابینہ کو ترمیم کے مسودے پر تفصیلی بریفنگ دی جائے گی، جس میں مقامی حکومتوں کو مالی، انتظامی اور سیاسی اختیارات دینے، ان کی مدت چار سال کرنے اور انتخابات نگراں سیٹ اپ کے تحت کرانے جیسے نکات شامل ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ایم کیو ایم کے وفد سے ملاقات میں بلدیاتی مسودے کو ترمیم میں ضم کرنے کا یقین دلایا، جس کے بدلے ایم کیو ایم نے نہ صرف حمایت کی بلکہ دیگر جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے میں بھی مدد کا وعدہ کیا۔ اسی طرح استحکام پاکستان پارٹی، مسلم لیگ (ق) اور بلوچستان عوامی پارٹی کے وفود نے بھی الگ الگ ملاقاتیں کیں، جو حکومتی اتحاد کی مضبوطی کی نشاندہی کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: فلپائن میں ہولناک سمندری طوفان سے تباہ کاریاں، 140 افراد ہلاک، درجنوں لاپتہ

پیپلز پارٹی کا سخت موقف ادھر پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ترمیم کے صرف ایک نکتے کی حمایت کا اعلان کیا۔ بلاول نے کہا کہ آرٹیکل 243 میں تبدیلی قابل قبول ہے، مگر صوبائی شیئر، این ایف سی فارمولے میں تبدیلی اور دیگر تمام شقیں مسترد ہیں۔ پارٹی نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی صورت ان تجاویز کی حمایت نہیں کرے گی، جو صوبائی خودمختاری کو کمزور کریں۔ یہ موقف حکومتی اتحاد میں دراڑ کا باعث بن سکتا ہے۔

نتیجہ: سیاسی استحکام کا امتحان 27ویں آئینی ترمیم پاکستان کی سیاسی اور انتظامی ساخت کو نئی شکل دے سکتی ہے، مگر اتحادیوں میں اختلافات اس کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ اگر کابینہ سے منظوری مل جائے تو سینیٹ میں پیشی ایک اگلا چیلنج ہوگا، جہاں اکثریت حاصل کرنا ضروری ہوگا۔ یہ ترمیم بلدیاتی نظام کو مضبوط بنانے کا دعویٰ کرتی ہے، لیکن صوبائی حقوق پر تنازع ملک کی وحدت کو متاثر کر سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں مزید مشاورتوں سے معاملہ حل ہو سکتا ہے۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں