وفاقی کابینہ نے تمام گریڈز (ایک سے 22) کے سرکاری ملازمین کے لیے ماہانہ ہاؤس رینٹ سیلنگ میں یکساں 85 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کی سمری پر فنانس ڈویژن کی توثیق کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کے خصوصی ہدایت نامے پر 24 گھنٹوں میں فیصلہ ہوگیا، جس سے ملازمین کو مہنگائی کے بھاری دباؤ سے نجات ملے گی اور قومی خزانے پر سالانہ 12 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔
سمری کیسے منظور ہوئی؟
وزارت ہاؤسنگ نے تین مارکیٹ سروے (اسٹیٹ آفس، پی ڈبلیو ڈی اور پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس) کی بنیاد پر ابتدائی طور پر مختلف اضافے تجویز کیے تھے: گریڈ 1-10 کے لیے 100 فیصد، 11-16 کے لیے 75 فیصد، 17-19 کے لیے 65 فیصد اور 20-22 کے لیے 60 فیصد۔ تاہم فنانس ڈویژن نے یکساں 85 فیصد اضافے کی منظوری دی، جو اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ جیسے شہروں میں skyrocketing rents کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔ آخری نظرثانی 2021 میں ہوئی تھی، اس تاخیر سے ملازمین پریشان تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سمندری طوفان "ملیسا” سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ گئی، طوفان برمودا کی جانب بڑھنے لگا
کون سے ملازمین مستفید ہوں گے؟
یہ اضافہ تمام وفاقی ملازمین کو فائدہ دے گا، خاص طور پر نچلے گریڈز کو جن کی کرایہ کی ادائیگیاں تنخواہ کا بڑا حصہ کھا رہی تھیں۔ بڑے شہروں میں rents میں 100 فیصد سے زائد اضافہ ہوچکا ہے، جس سے ملازمین گھروں سے نکلنے پر مجبور تھے۔ حکومتی پالیسی کے تحت ہر تین سال بعد نظرثانی ہوتی ہے، جو مہنگائی کے تناظر میں بروقت قدم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب ایس یو وی گاڑیوں کے لیے نئی نمبر پلیٹس متعارف کرائے گ
نتیجہ: ملازمین کی پریشانیاں دور
یہ فیصلہ وزیراعظم کی براہ راست توجہ کا نتیجہ ہے، جو سرکاری ملازمین کی فلاح و بہبود کو یقینی بناتا ہے۔ ملازمین نے اسے خوش آئند قرار دیا، جبکہ حکومت مہنگائی کنٹرول کے دیگر اقدامات بھی کررہی ہے۔ آئندہ ایسی نظرثانیوں سے ملازمین کی مورال بڑھے گی۔
