اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ماڑی انرجیز کو 23 نئے آف شور بلاکس ایوارڈ کر دیے ہیں، جن میں سے 18 بلاکس بطور آپریٹر اور 5 جوائنٹ وینچر پارٹنر کے طور پر شامل ہیں۔ پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق یہ بلاکس تقریباً 53 ہزار 510 مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں اور ابتدائی سرمایہ کاری 80 ملین ڈالر جبکہ ڈرلنگ مرحلے میں ایک ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ چار توانائی کمپنیاں جوائنٹ وینچر میں شریک ہیں، اور ماڑی انرجیز نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو اس بارے میں آگاہ کر دیا ہے۔
بولی کا عمل اور تفصیلات
پیٹرولیم ڈویژن نے سمندر میں تیل اور گیس کی تلاش کے لیے کامیاب بولیوں کا اعلان کیا تھا، جس کے نتیجے میں آف شور بلاکس کی بولیاں موصول ہوئیں۔ یہ بلاکس انڈس اور مکران بیسنز میں واقع ہیں، جو پاکستان کی توانائی ضروریات کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ملک کی توانائی سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کی جانب ایک بڑا قدم ہے، خاص طور پر جب پاکستان اپنی تیل کی نصف سے زیادہ درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔
سرمایہ کاری کے امکانات
ابتدائی مرحلے میں 80 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جو ڈرلنگ شروع ہونے پر ایک ارب ڈالر تک بڑھ سکتا ہے۔ یہ بلاکس پاکستان کی معیشت کو تقویت دیں گے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کریں گے۔ پیٹرولیم ڈویژن کا کہنا ہے کہ یہ اقدام 20 سال بعد آف شور تلاش کا پہلا بڑا قدم ہے، جو ملک کی توانائی خود کفالت کی جانب پیشرفت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ون ڈے سیریز کے شیڈول میں تبدیلی کے بعد 3 ملکی ٹورنامنٹ کا شیڈول بھی تبدیل کر دیا گیا
نتیجہ
یہ ایوارڈ پاکستان کی توانائی شعبے میں نئی جہت کا اضافہ کرے گا، جو ملک کو تیل اور گیس کی درآمدات سے نجات دلانے میں مدد دے گا۔ مستقبل میں یہ منصوبے ملکی معیشت کو مستحکم کریں گے اور روزگار کے مواقع پیدا کریں گے۔ حکومت کو چاہیے کہ ایسے اقدامات کو جاری رکھے تاکہ توانائی بحران پر قابو پایا جا سکے۔
