منگل, مارچ 3, 2026
Homeپاکستانفیصل آباد میں خواتین کو ڈھال بنا کر یورپ لے جانے کی...

فیصل آباد میں خواتین کو ڈھال بنا کر یورپ لے جانے کی کوشش ناکام، ایف آئی اے کی بڑی کارروائی

فیصل آباد ایئرپورٹ پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (FIA) نے عمرہ ویزہ کا استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر یورپ جانے کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔ 13 مسافروں کو، جن میں تین خواتین شامل تھیں، جدہ جانے والی فلائٹ سے اتار لیا گیا۔ ابتدائی تفتیش سے پتہ چلا کہ یہ مسافر سعودی عرب سے مصر اور لیبیا ہوتے ہوئے کشتی کے ذریعے یورپ پہنچنے کا ارادہ رکھتے تھے، اور خواتین کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ انسانی اسمگلر سے رابطوں کی بھی تصدیق ہوئی۔

مشکوک سفر کی نشاندہی اور کارروائی

ایف آئی اے کے مطابق، یہ مسافر فلائٹ ایف زیڈ-356 پر جدہ جا رہے تھے جب امیگریشن کلیئرنس کے دوران ان کے رویے میں مشکوک بات سامنے آئی۔ تفصیلی جانچ پڑتال میں مسافروں کے موبائل فونز سے بین الاقوامی کالز اور چیٹ ریکارڈز برآمد ہوئے، جو ایک انسانی اسمگلر ساجد علی سے رابطے ظاہر کرتے تھے۔ مسافروں کے نام حمزہ علی، ذیشان علی، سمیع اللہ، شیراز حسن، عمران وارث، بلال حسن، سید یاسین حسین، محمد رضوان، غلام رسول، حق نواز، اور خواتین فیضل بی بی، زاہدہ بی بی، اور سرداراں بی بی ہیں۔ یہ تمام فیصل آباد سے تعلق رکھتے تھے۔

خواتین کو ڈھال کے طور پر استعمال کی حکمت عملی

تفتیش کاروں نے انکشاف کیا کہ خواتین کو خاص طور پر اس لیے شامل کیا گیا تھا تاکہ سیکیورٹی چیکس میں شکوک کم ہوں۔ مسافروں نے ابتدائی بیانات میں تسلیم کیا کہ ان کا منصوبہ سعودی عرب سے مصر، پھر لیبیا جا کر کشتی کے ذریعے یورپ پہنچنا تھا۔ ایف آئی اے کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل نے تمام 13 افراد کو حراست میں لے لیا اور قانونی کارروائی شروع کر دی۔ یہ واقعہ پاکستان میں غیر قانونی ہجرت کی بڑھتی ہوئی لہر کی نشاندہی کرتا ہے، جو زندگیوں کو خطرے میں ڈالتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایم سی بی نے آئی فون 17 کو مزید سستا بنا دیا اب حاصل کریں صفر فیصد قسطوں پر!

نتیجہ: غیر قانونی ہجرت کی روک تھام کی ضرورت

یہ واقعہ انسانی ٹریفکنگ کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سخت اسکریننگ سے نہ صرف حقیقی زائرین کی حفاظت ہو گی بلکہ ملک کی عالمی شبیہ بھی بہتر ہو گی۔ شہریوں کو غیر قانونی راستوں سے گریز کرنا چاہیے جو قانونی مسائل اور جان کے خطرات کا باعث بنتے ہیں۔ حکومت کو ایسے نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے مزید اقدامات اٹھانے چاہییں۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں