تہران: ایران کے دارالحکومت تہران میں طالبان حکومت کے سخت مخالف اور سابق افغان حکومت کے سینئر پولیس کمانڈر جنرل اکرام الدین سریع کو نامعلوم مسلح افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔ یہ واقعہ تہران کی مرکزی سڑک ولیعصر پر پیش آیا جہاں وہ اپنے دفتر سے نکل رہے تھے، زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اسپتال میں دم توڑ گئے۔ ایک ساتھی بھی موقع پر ہلاک ہوا جبکہ ایک زخمی ہے۔ ایرانی پولیس نے اسے ٹارگٹڈ حملہ قرار دے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
واقعے کی تفصیلات
جنرل اکرام الدین سریع سابق افغان جمہوریہ کے دور میں صوبہ تخار اور بغلان کے پولیس سربراہ رہ چکے تھے۔ طالبان کے 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد وہ ایران میں پناہ گزین ہو گئے تھے اور وہاں سابق افغان فوجیوں کے حقوق کی وکالت کرتے تھے۔ وہ طالبان کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کرتے رہے، خاص طور پر سابق سیکورٹی اہلکاروں کی گرفتاریوں اور ہلاکتوں پر۔ ذرائع کے مطابق حملہ آور نقاب پوش تھے اور واقعہ شام کے وقت پیش آیا۔ ایرانی حکام نے ابھی تک حملہ آوروں کی شناخت یا مقصد پر تفصیلات جاری نہیں کیں۔
پچھلے واقعات اور خدشات
یہ ایران میں طالبان مخالف افغان شخصیات پر دوسرا بڑا حملہ ہے۔ رواں سال ستمبر میں مشہد میں اسماعیل خان کے قریبی ساتھی معروف غلامی کو بھی ان کے دفتر میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ افغان حزب اختلاف کی جماعتیں جیسے نیشنل ریزسٹنس فرنٹ اور جمعیت اسلامی نے اس قتل کی شدید مذمت کی ہے اور ایران سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ سابق افغان اہلکاروں میں ایران میں اپنی حفاظت کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے، کیونکہ تہران طالبان سے سفارتی اور اقتصادی روابط بھی رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لائیو پروگرام کے دوران مداخلت، احسن اقبال نے وضاحت پیش کردی
نتیجہ
یہ واقعہ افغان مہاجرین کی مشکلات کو مزید اجاگر کرتا ہے جو طالبان کے خوف سے پڑوسی ممالک میں پناہ لے رہے ہیں۔ افغان حزب اختلاف طالبان کو ذمہ دار ٹھہرا رہی ہے، جبکہ ایرانی حکام کی خاموشی سوالات اٹھا رہی ہے۔ تحقیقات کے نتائج سے مزید صورتحال واضح ہو گی۔
