غزہ پٹی میں موسم سرما کی پہلی شدید بارش نے فلسطینی پناہ گزینوں کی زندگی کو مزید اجاڑ بنا دیا ہے۔ رات گئے تیز بارش سے ہزاروں خیمے پانی میں ڈوب گئے، رضائیں، کمبل اور گھریلو برتن سمیت قیمتی سامان تباہ ہو گیا، جبکہ بے گھر لوگ شدید سردی میں ٹھٹھر رہے ہیں۔ امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ پانی کی وجہ سے وبائی امراض کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، اور فلسطینی اپنی مدد آپ کرتے ہوئے پانی کی نکاسی میں مصروف ہیں۔
فلسطینی خاندانوں کی دل دہلا دینے والی کہانیاں
غزہ کے تباہ شدہ علاقوں میں رہنے والے پناہ گزینوں نے اپنی تکلیف دہ کہانیاں سنائیں، جو سن کر دل پگھل جاتا ہے۔ ایک غمزدہ ماں نے بتایا کہ ان کے شہید بیٹے نے محنت سے یہ خیمہ بنایا تھا، مگر اب بارش نے اسے بھی چھین لیا۔ "اب میں کیا کروں؟ کہاں جاؤں؟” ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب امڈ آیا۔ ایک اور خاتون، جو چھوٹے بچوں سمیت بارش میں بھیگ چکی تھیں، نے غیر ملکی میڈیا کو بتایا کہ خیموں میں پانی بھر جانے سے خاندان کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہو گئے۔ ان کی آواز میں مایوسی اور بے بسی کی گہرائی تھی، جو غزہ کی انسانی المیے کی عکاسی کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تنقید کرنے والوں کو کوئی جواب نہیں دوں گا، ساری توجہ کرکٹ پر ہے: بابراعظم
سردی کی شدت اور بیماریوں کا خطرہ
بارش کے بعد غزہ میں سردی کی لہر نے پناہ گزینوں کو مزید گھیر لیا ہے۔ زیادہ تر لوگ کمزور خیموں یا کھلے میدانوں میں رہنے پر مجبور ہیں، جہاں ٹھنڈ بڑھنے سے صحت کے مسائل شدت اختیار کر رہے ہیں۔ فلسطینی رضاکار پانی کی نکاسی کے لیے ہاتھوں سے کام کر رہے ہیں، کیونکہ کوئی مناسب انتظامات موجود نہیں۔ ماہرین صحت اور امدادی تنظیموں نے تنبیہ کی ہے کہ جامد پانی سے ملیریا، ڈائریا اور دیگر وبائیں پھیلنے کا خطرہ ہے، جو پہلے ہی تباہ حال غزہ کی صورتحال کو مزید خراب کر سکتا ہے۔
نتیجہ: عالمی برادری کی فوری مدد کی ضرورت
غزہ میں بارش کا یہ واقعہ فلسطینیوں کی لامتناہی جدوجہد کی ایک اور کڑی ہے، جہاں اسرائیلی جارحیت کے بعد فطری آفات بھی ان پر حملہ آور ہو رہی ہیں۔ پاکستان سمیت مسلم دنیا کو چاہیے کہ فوری امداد بھیجے تاکہ خیموں کی مرمت، گرم کپڑے اور ادویات پہنچائی جائیں۔ عالمی برادری کی خاموشی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، اور غزہ کے بچوں کی آنکھوں میں چھپا درد ہمیں جگانے کا پیغام دیتا ہے۔
