غزہ پٹی میں اسرائیلی فوج کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری ہیں، جن کے نتیجے میں تازہ ڈرون حملے میں خان یونس کے قریب بنی سہیلیٰ علاقے میں دو فلسطینی بچوں کی شہادت ہو گئی۔ آٹھ اور گیارہ سالہ بھائیوں، جما اور فدی تمر ابو عسی کو لکڑیاں جمع کرنے کے دوران نشانہ بنایا گیا، جبکہ دو سالہ جنگ میں فلسطینی ہلاکتوں کی تعداد ستر ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ حماس نے ثالثی کرنے والے ممالک سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ مشتبہ افراد کو نشانہ بنایا گیا۔
حملے کی تفصیلات اور انسانی نقصان
اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز غزہ کے مختلف علاقوں میں زمینی، فضائی اور بحری حملے کیے، جن میں شمالی غزہ شہر، دیر البلح اور النصیرات پناہ گزین کیمپ شامل ہیں۔ ناصر میڈیکل کمپلیکس کے مطابق، بنی سہیلیٰ میں "ییلو لائن” سے آگے ڈرون نے شہریوں پر بم گرایا، جس سے دونوں بھائی شدید زخمی ہوئے اور ہسپتال پہنچنے سے پہلے شہید ہو گئے۔ بچوں کے چچا نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ وہ گھر سے باہر لکڑیاں اکٹھی کرنے گئے تھے، جب اچانک حملہ ہوا۔ اس واقعے نے نازک جنگ بندی کو مزید خطرے میں ڈال دیا ہے، جہاں سے اکتوبر کے معاہدے کے بعد پانچ سو سے زائد خلاف ورزیاں ریکارڈ ہو چکی ہیں۔
اسرائیلی موقف اور عالمی ردعمل
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ انہوں نے دو مشتبہ افراد کی نشاندہی کی تھی جو مشکوک سرگرمیوں میں ملوث تھے اور قریب ہی تعینات فوجیوں کے لیے خطرہ تھے۔ تاہم، فلسطینی حکام اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اسے شہریوں پر براہ راست حملہ قرار دے رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے ان خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی ہے، جبکہ یونیسف کے مطابق جنگ بندی کے دوران ہر روز اوسطاً دو بچے شہید ہو رہے ہیں۔ حماس کے ترجمان حازم قاسم نے مصر، قطر اور ترکی سمیت ثالثی کرنے والوں سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کو معاہدے کی پابندی پر مجبور کیا جائے۔
ملبے سے مزید لاشیں برآمد، مجموعی ہلاکتیں
غزہ میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے دو اور فلسطینیوں کی لاشیں برآمد ہوئیں، جو انسانی المیے کی شدت کو ظاہر کرتی ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق، اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی اس جنگ میں ستر ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں بیس ہزار سے زیادہ بچے شامل ہیں۔ امداد کی ترسیل معطل ہونے اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی سے انسانی بحران مزید گہرا ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں پہلا عالمی مقابلہ حسن قرآت: ملائیشیا کے قاری ایمن رضوان نے 50 لاکھ روپے کا انعام جیت لیا
نتیجہ: امن کی راہ میں رکاوٹیں
غزہ کی یہ تازہ ترین سانحہ نہ صرف فلسطینی بچوں کی معصومیت کو نشانہ بناتا ہے بلکہ علاقائی امن عمل کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر دیتا ہے۔ پاکستان سمیت مسلم دنیا نے ان خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ نازک جنگ بندی مکمل طور پر ناکام ہو سکتی ہے، جس کے دور رس اثرات مشرق وسطیٰ پر مرتب ہوں گے۔ انسانی حقوق کی حفاظت اور بچوں کی جانوں کی قدر کرنا اب عالمی ضمیر کا امتحان ہے۔
