غزہ: جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ پٹی میں فضائی حملے جاری ہیں، جن میں شمالی اور جنوبی علاقوں پر بمباری سے مزید تین فلسطینی شہید ہوگئے۔ ترکی نے معاہدے پر عمل نہ ہونے پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے پیر کو استنبول میں مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس طلب کرلیا ہے، جس میں پاکستان سمیت کئی ملک شریک ہوں گے۔ ادھر یرغمالیوں کے تبادلے میں حماس نے دو اسرائیلیوں کی لاشیں واپس کیں، جبکہ اسرائیل نے 30 فلسطینیوں کی میتوں کے بدلے حوالے کیں۔
غزہ میں تازہ خلاف ورزیاں
غزہ کے صحت کے مطابق، اسرائیلی جنگی طیاروں نے شمالی غزہ کے رہائشی علاقوں اور جنوبی خان یونس پر حملے کیے، جس سے تین معصوم شہری شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔ فلسطینی حکام نے ان کارروائیوں کو جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ حماس ترجمان نے کہا کہ اسرائیل معاہدے کی پاسداری کرنے کے بجائے قتل عام جاری رکھے ہوئے ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی کا سیاسی رہنماؤں سے رابطے کے بعد سیاسی جماعتوں کا جرگہ بلانےکا فیصلہ
ترکی کا اہم اجلاس
ترک وزیر خارجہ حakan فیدان نے اعلان کیا کہ استنبول میں مصر، انڈونیشیا، اردن، پاکستان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ شرکت کریں گے۔ اجلاس کا مقصد امریکی امن منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ اور اگلے مرحلے کا تعین ہے۔ ترکی نے اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔
یرغمالیوں کا تبادلہ جاری
حماس نے اب تک 15 اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں واپس کی ہیں، جبکہ اس کے پاس 28 موجود ہیں۔ برطانوی میڈیا کے مطابق، یہ تبادلہ معاہدے کا حصہ ہے مگر حملے اسے خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
نتیجہ: غزہ میں معصوموں کا قتل عام اور جنگ بندی کی خلاف ورزیاں عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ پاکستان سمیت مسلم دنیا کو متحد ہو کر اسرائیل پر دباؤ ڈالنا چاہیے تاکہ دیرپا امن قائم ہو۔ فلسطینیوں کی آواز اب دبائی نہیں جاسکتی۔
