منگل, مارچ 3, 2026
Homeعالمیاسرائیل نے امدادی سامان کی غزہ آمد پھر روک دی، بڑھتی سردی...

اسرائیل نے امدادی سامان کی غزہ آمد پھر روک دی، بڑھتی سردی میں فلسطینی گیلے خیموں میں رہنے پر مجبور

غزہ میں موسم سرما کی پہلی بارشوں نے فلسطینی پناہ گزینوں کی مشکلات کو دوبالا کر دیا ہے، جہاں ہزاروں خیمے پانی میں ڈوب گئے اور لاکھوں بے گھر لوگ کھلے آسمان تلے سردی اور امداد کے منتظر ہیں۔ اسرائیل نے خیمے اور دیگر امدادی سامان کی ترسیل دوبارہ روک دی، جس سے اقوام متحدہ کے ادارہ انروا (UNRWA) کے 13 لاکھ فلسطینیوں کے لیے تیار کردہ مدد رک گئی ہے۔ فلسطینی خیموں کے ارد گرد گڑھے کھود کر پانی روکنے پر مجبور ہیں، جبکہ تباہ شدہ عمارتوں میں رہنے والوں کو منہدم ہونے کا خطرہ لاحق ہے۔ دوسری طرف، اسرائیل کی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، اور زیتون علاقے میں ایک مغوی کی لاش کی تلاش دوبارہ شروع ہو گئی، جبکہ 15 مزید فلسطینی میتوں کو حوالے کیا گیا۔

بارش سے خیموں کی تباہی اور سردی کا بحران

غزہ کی حالیہ بارشوں نے پناہ گزینوں کے خیموں کو مکمل طور پر متاثر کر دیا، جہاں پانی روکنے کا کوئی بنیادی بندوبست موجود نہیں۔ ہزاروں خاندان گیلے کپڑوں اور خیموں میں رات گزارنے پر مجبور ہیں، جس سے بیماریوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ انروا کے سربراہ کا کہنا ہے کہ سخت سردی میں امداد کی ضرورت پہلے سے کئی گنا زیادہ ہو گئی ہے، خاص طور پر بزرگوں، بچوں اور معذور افراد کے لیے۔ فلسطینیوں نے اپنے محدود وسائل سے خیموں کے آس پاس گڑھے کھودنے شروع کر دیے تاکہ پانی اندر نہ آئے، مگر یہ عارضی حل ہے جو بحران کو مزید گہرا کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی فوج کی غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری، بمباری سے 3 فلسطینی شہید ہوگئے

امداد کی رکاوٹ اور اسرائیلی اقدامات

اسرائیل کی جانب سے امدادی قافلوں پر پابندیوں نے غزہ کی انسانی صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔ انروا کے مطابق، خیمے، کپڑے اور دیگر ضروری سامان کی ترسیل روک دی گئی، جو لاکھوں لوگوں کی جان بچا سکتا تھا۔ اس کے علاوہ، غزہ شہر کے زیتون علاقے میں ریڈ کراس اور القسام بریگیڈز کی مشترکہ ٹیمیں ایک مفقود شخص کی لاش کی تلاش میں مصروف ہیں۔ اسرائیل نے اب تک 330 فلسطینی میتوں کو واپس کیا ہے، جن میں حالیہ 15 بھی شامل ہیں، مگر یہ اقدامات بحران کو کم کرنے کے بجائے تناؤ بڑھا رہے ہیں۔

جنگ بندی کی خلاف ورزیاں اور عالمی خاموشی

دوسری جانب، اسرائیل کی غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری ہیں، جو امن کی کوششوں کو سبوتاژ کر رہی ہیں۔ تباہ شدہ عمارتوں میں رہنے والے فلسطینیوں کو کسی بھی لمحے منہدم ہونے کا سامنا ہے، جبکہ غذائی قلت اور صحت کے مسائل 90 فیصد آبادی کو متاثر کر رہے ہیں۔

نتیجہ: عالمی برادری کی فوری مداخلت ضروری

غزہ کا یہ انسانی المیہ پاکستان سمیت مسلم دنیا کے لیے انتباہ ہے کہ امداد کی راہ میں رکاوٹیں ہٹانے اور جنگ بندی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی دباؤ بڑھایا جائے۔ فلسطینیوں کی جدوجہد آزادی اور بقا کی لڑائی ہے، اور خاموشی اسے مزید طول دے گی۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں