قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے داخلہ نے پاکستان پیپلز پارٹی کی ایم این اے شرمیلہ فاروقی کی جانب سے پیش کیے گئے جہیز پر پابندی کے بل کو ناقابل عمل قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ کمیٹی کے اراکین نے اسے غیر عملی قرار دیا، جبکہ بل میں جہیز کی مجبوری پر سزا کا تعین کیا گیا تھا، تاہم والدین کی طرف سے رضاکارانہ تحائف کی اجازت تھی۔ شرمیلہ فاروقی نے ایکس پر اپنے ردعمل میں افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ بحث جہیز کو فروغ دینے والی لگی۔ اسی دوران سپریم کورٹ نے جولائی میں جہیز روکنے کو غیر قانونی قرار دیا، جبکہ اسلامی نظریاتی کونسل نے گزشتہ سال جہیز ایکٹ میں تبدیلیاں تجویز کیں۔
کمیٹی اجلاس کی تفصیلات کمیٹی کے چیئرمین راجہ خرم نواز کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں اراکین نے بل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس کی موجودہ شکل میں عمل درآمد ممکن نہیں۔ شرمیلہ فاروقی کا بل جہیز کی طلب اور دباؤ میں دینے کو جرم قرار دیتا تھا، مگر کمیٹی نے اسے ناقابل قبول ٹھہرایا۔ شرمیلہ نے ایکس پر لکھا کہ یہ رویہ عورتوں کو اشیاء کی طرح دیکھنے کو برقرار رکھتا ہے۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ جولائی میں سپریم کورٹ نے ایک کیس میں فیصلہ دیا کہ بانجھ پن کے الزام پر عورت سے جہیز یا نان نفقہ روکنا غیر قانونی ہے۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اسے معاشرتی ظلم قرار دیا اور کہا کہ یہ مقدمات عورتوں کو ذلیل کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔
اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات گزشتہ سال کونسل نے جہیز اور دلہن کے تحائف ایکٹ میں تبدیلیاں تجویز کیں۔ سزا کو چھ ماہ سے بڑھا کر ایک سال کرنے اور جہیز کی حد کو پانچ ہزار روپے سے دو تولہ سونے کی مالیت تک بڑھانے کی سفارش کی۔ شادی کے اخراجات کی حد بھی اسی پیمانے سے جوڑنے کا مشورہ دیا گیا۔
نتیجہ جہیز کی روک تھام کے لیے قانون سازی ضروری ہے تاکہ عورتیں دباؤ سے آزاد رہیں۔ شرمیلہ فاروقی کا بل مسترد ہونے سے بحث جاری رہے گی، اور معاشرے کو اس روایت سے نکلنے کی ضرورت ہے۔
