منگل, مارچ 3, 2026
Homeمالیاتآئی ایم ایف نے ایس آئی ایف سی کو مراعات اور نئے...

آئی ایم ایف نے ایس آئی ایف سی کو مراعات اور نئے اسپیشل اکنامک زونز سے روک دیا

اسلام آباد: پاکستان نے آئی ایم ایف کے قرض پروگرام کے لیے توانائی، مالیاتی، سماجی، اسٹرکچرل، مانیٹری اور کرنسی سے متعلق 23 شرائط قبول کر لیں۔ ان میں ترقیاتی اسکیموں میں کمی، کھاد اور کیڑے مار ادویات پر 5 فیصد ایکسائز ڈیوٹی کا اضافہ، میٹھی اشیاء پر نئی ڈیوٹی کا نفاذ، سیلز ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنا اور شوگر سیکٹر کو ریگولیشن سے آزاد کرنا شامل ہے۔ آئی ایم ایف نے ایس آئی ایف سی کو کوئی مراعات تجویز کرنے اور حکومت کو نئے اسپیشل اکنامک زونز قائم کرنے سے روک دیا ہے۔

ٹیکس اور مالیاتی اصلاحات

حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دلایا ہے کہ 40 ہزار بڑے خوردہ فروشوں کے لیے ملک گیر پوائنٹ آف سیل سسٹم دو سال میں مکمل کر لیا جائے گا۔ چاروں صوبے سیلز ٹیکس کے ہم آہنگ طریقہ کار کی طرف بڑھیں گے۔ منتخب اشیاء کو معیاری شرح پر منتقل کر کے جی ایس ٹی کی بنیاد کو وسعت دی جائے گی۔ اس کے علاوہ، گندم کی خریداری کے لیے کوئی نئی امدادی قیمت مقرر نہیں کی جائے گی اور درآمدات پر ریگولیٹری ڈیوٹی کا نفاذ نہیں ہو گا۔ یہ اقدامات پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے اور ٹیکس نظام کو شفاف بنانے کے لیے اہم ہیں۔

توانائی شعبہ کی شرائط

توانائی کے شعبے میں تمام صوبوں نے بجلی اور گیس پر نئی سبسڈی نہ دینے پر اتفاق کیا ہے۔ نئے آر ایل این جی معاہدوں سے روکا گیا ہے اور اوگرا کو 40 دنوں میں ٹیرف کی ایڈوائس دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ سسٹم کے نقصانات کم کرنے اور لاگت میں کٹوتی پر زور دیا گیا ہے۔ کوئی فیول سبسڈی یا کراس سبسڈی سکیم شروع نہیں کی جائے گی۔ یہ شرائط توانائی بحران کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیں: فلوریڈا میں ہائی وے پر چلتی گاڑی پر جہاز گرنے کی ویڈیو وائرل

نتیجہ

یہ شرائط پاکستان کی معیشت کو بیرونی خسارے سے نمٹنے اور ادائیگیوں کے توازن کو بہتر بنانے میں معاون ہوں گی، لیکن ٹیکس اضافے سے عوام پر بوجھ بڑھ سکتا ہے۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق، پروگرام کی میعاد ختم ہونے کے بعد خسارہ 3.3 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ حکومت کو ان اصلاحات پر عمل درآمد یقینی بنانا ہو گا تاکہ طویل مدتی استحکام حاصل ہو۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں