لاہور: پنجاب حکومت نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف 9 مئی کے واقعات سے متعلق 11 مقدمات کے ٹرائل کے لیے نیا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ وزارت داخلہ پنجاب کے مطابق یہ مقدمات اب راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی (اے ٹی سی) عدالت میں چلیں گے جہاں بانی پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا جائے گا۔ جی ایچ کیو حملہ سمیت ان مقدمات کی پہلی سماعت 5 نومبر کو جج امجد علی شاہ کی عدالت میں ہوگی۔
نوٹیفکیشن کی اہم تفصیلات
وزارت داخلہ کے نوٹیفکیشن میں واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ تمام سکیورٹی اور ویڈیو لنک کے انتظامات مکمل کیے جائیں۔ یہ اقدام عدالت کی کارروائی کو تیز کرنے اور جیل سے براہ راست پیشی کو ممکن بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سابقہ نوٹیفکیشنز میں تاخیر کی وجوہات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ نیا حکم جاری کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ای چالان سسٹم کے نفاذ کے بعد دستی چالان کا سلسلہ ختم ہوگیا: ڈی آئی جی ٹریفک
جی ایچ کیو حملہ کیس کا شیڈول
خاص طور پر جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) پر حملہ کے کیس کی سماعت 5 نومبر سے شروع ہوگی۔ جج امجد علی شاہ اس کی نگرانی کریں گے۔ پی ٹی آئی وکلاء کا کہنا ہے کہ تمام مقدمات سیاسی انتقام کا نتیجہ ہیں اور گواہان کی جانب سے بیانات تبدیل ہونے کی اطلاعات ہیں۔
قانونی عمل اور اگلا مرحلہ
یہ نوٹیفکیشن عدالتی کارروائیوں کو نئی سمت دے گا۔ پی ٹی آئی نے اسے مزید سیاسی دباؤ قرار دیا ہے جبکہ حکومتی حلقوں میں انصاف کے عمل کو یقینی بنانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ اگلی سماعتوں سے مزید واضح صورتحال سامنے آئے گی۔
نتیجہ: 9 مئی کے مقدمات کا ٹرائل پاکستانی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ عمران خان کی پیشی سے نئے موڑ سامنے آ سکتے ہیں، جبکہ قانون کی بالادستی کا امتحان بھی ہوگا۔
