منگل, مارچ 3, 2026
Homeعالمیبھارت میں فضائی ہنگامے کے دوران انڈگو کی 1,000 پروازیں منسوخ

بھارت میں فضائی ہنگامے کے دوران انڈگو کی 1,000 پروازیں منسوخ

ہندوستان کی سب سے بڑی ایئر لائن انڈی گو نے نئے پائلٹ آرام کے ضوابط کی وجہ سے ایک ہزار سے زائد پروازوں کی منسوخی کر دی، جس سے دہلی، ممبئی، چنئی، بنگلور اور حیدرآباد جیسے بڑے شہروں کے ایئرپورٹس پر افراتفری پھیل گئی۔ سول ایوی ایشن وزارت نے فوری طور پر ان ضوابط کو معطل کر دیا ہے، جبکہ انڈی گو نے معذرت کی اور پانچ سے پندرہ دسمبر تک ٹکٹوں پر رعایت کا اعلان کیا۔ وزیر رام موہن نائیڈو کا کہنا ہے کہ حفاظت کو نقصان پہنچائے بغیر بحالی شروع ہو جائے گی، اور آپریشنز جلد معمول پر لوٹ آئیں گے۔

نئے ضوابط کی وجہ سے پیدا ہونے والی مشکلات

انڈی گو کی منسوخیوں کا بنیادی سبب پائلٹوں کے لیے نئے ہفتہ وار آرام کے قواعد تھے، جو ہوائی حفاظت بڑھانے کے لیے متعارف ہوئے۔ ان ضوابط میں ڈیوٹی گھنٹوں کی حد اور رات کے لینڈنگز میں کمی شامل تھی، لیکن ایئر لائن نے شیڈولز کی منصوبہ بندی میں غلطی کی، جس سے ہزاروں مسافر پھنس گئے۔ جمعہ کا دن سب سے خراب رہا، جب ایک ہزار سے زائد پروازوں کو روک دیا گیا۔ سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل ہوئیں جن میں خاندان رات بھر ایئرپورٹس پر انتظار کرتے، بچے فرش پر سو رہے اور مسافر عملے پر چیخ رہے دکھائی دیے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی سب سے سستی الیکٹرک کار پر رعایت کی مدت میں مزید اضافہ

سرکاری اور ایئر لائن کا ردعمل

سول ایوی ایشن وزیر رام موہن نائیڈو نے اعلان کیا کہ ضوابط کو فوری طور پر روک دیا گیا ہے، اور حفاظت کو برقرار رکھتے ہوئے شیڈول بحال کیے جائیں گے۔ انڈی گو نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ دسمبر دس سے پندرہ تک آپریشنز معمول پر آ جائیں گے، اور فبروری دس تک عارضی چھوٹ ملی ہے۔ ایئر لائن نے بس اور ہوٹل کی سہولیات فراہم کیں، جبکہ دیگر کمپنیاں جیسے ایئر انڈیا اور اکاسہ متاثر نہ ہوئیں۔ ڈی جی سی اے نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

بحالی کی راہ میں چیلنجز اور امیدیں

یہ بحران ہندوستانی ایوی ایشن کی کمزوریوں کو اجاگر کرتا ہے، جہاں عملے کی کمی اور منصوبہ بندی کی ناکامی نے مسافروں کو شدید تکلیف دی۔ تاہم، ضوابط کی معطلی سے صورتحال بہتر ہو رہی ہے، اور انڈی گو کی بحالی سے ہزاروں پاکستانی مسافرین کو بھی فائدہ پہنچے گا جو ہندوستان جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں بہتر تیاری ضروری ہے تاکہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں