اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں ایف-5 سیکٹر میں کیپیٹل ہاؤس کی تعمیر کی منظوری دے دی گئی ہے، جس کی لاگت 3.2 ارب روپے ہے۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے جمعرات کو ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا، جو دیگر میگا پراجیکٹس کے ساتھ مجموعی طور پر 83 ارب روپے سے زیادہ کے ہیں۔ یہ عمارت سندھ، پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان ہاؤسز کی طرز پر بنائی جائے گی اور سرکاری رہائش کی بکھری ہوئی ضروریات کو پورا کرے گی۔
پراجیکٹ کی تفصیلات
سی ڈی اے کے چیئرمین محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کیپیٹل ہاؤس کا پی سی ون منظور کیا گیا۔ یہ عمارت اسلام آباد میں سرکاری افسران اور مہمانوں کے لیے مرکزی رہائشی سہولت فراہم کرے گی۔ افسران کا کہنا ہے کہ یہ پراجیکٹ دو سال میں مکمل ہو جائے گا اور شہر کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اسلام آباد کیپیٹل ہاؤس کی منظوری سے وفاقی دارالحکومت کو صوبائی سطح کی سہولیات ملیں گی۔
اس کے علاوہ، اجلاس میں افسران کی رہائش کے لیے 3 ارب روپے کی لاگت سے ایک نئی عمارت کی منظوری بھی دی گئی، جو گراؤنڈ فلور سمیت 14 منزلوں پر مشتمل ہوگی۔ اس میں برقی، مکینیکل اور ہارٹیکلچر کام شامل ہوں گے اور یہ بھی دو سال میں مکمل ہو جائے گی۔
دیگر اہم پراجیکٹس
سی ڈی اے نے ڈپلومیٹک انکلیو کی اپ گریڈیشن کے لیے 635 ملین روپے کا پراجیکٹ بھی منظور کیا، جو چھ ماہ میں مکمل ہو گا۔ یہ تمام پراجیکٹس اسلام آباد کی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے اہم ہیں۔ مجموعی طور پر، یہ منظوریاں شہر کی اقتصادی اور سیاحتی ترقی کو فروغ دیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی گرین لائن پروجیکٹ کا دوسرا مرحلہ نئی اسٹیشنوں کے ساتھ دوبارہ شروع
نتیجہ
یہ پراجیکٹس اسلام آباد کو مزید جدید اور فعال شہر بنانے میں مدد دیں گے۔ سی ڈی اے کی جانب سے بروقت تکمیل پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ شہریوں کو بہتر سہولیات میسر ہوں۔ یہ اقدامات وفاقی دارالحکومت کی ترقیاتی ضروریات کو پورا کریں گے اور پاکستان کی مجموعی اقتصادی نمو میں حصہ ڈالیں گے۔
