منگل, مارچ 3, 2026
Homeگاڑیاںاسلام آباد ہائی کورٹ کا 600 سی سی موٹر سائیکلوں پر پابندی...

اسلام آباد ہائی کورٹ کا 600 سی سی موٹر سائیکلوں پر پابندی کے فیصلے کا جائزہ

اسلام آباد ہائیکورٹ نے موٹروے پر 600 سی سی سے زائد انجن کی موٹر سائیکلوں کی اجازت پر غور کیا ہے، بشرطیکہ سخت حفاظتی ضوابط اور لازمی تربیت کو یقینی بنایا جائے۔ عدالت نے کوئی حتمی حکم جاری نہیں کیا، البتہ اسے پابندی ختم کرنے کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

سماعت کی تفصیلات

عدالت نے حال ہی میں کیس کی سماعت کے دوران کہا کہ اگر سوار نئے تجویز کردہ ضوابط پر پورا اتریں تو ایسی موٹر سائیکلوں کو موٹروے پر چلنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ موٹروے حکام نے عدالت کو بتایا کہ تمام سواروں کو مصدقہ حفاظتی تربیت مکمل کرنا ہوگی۔ اس مقصد کے لیے اسلام آباد اور شیخوپورہ میں نئے تربیتی اور لائسنسنگ مراکز قائم کیے جائیں گے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے سماعت کو وسط اکتوبر تک ملتوی کر دیا تاکہ حفاظتی فریم ورک پر مزید مشاورت کی جا سکے۔ عدالت نے واضح کیا کہ عوامی حفاظت کسی بھی فیصلے میں مرکزی حیثیت رکھے گی۔

حفاظتی اقدامات اور خدشات

موٹر سائیکل شوقین افراد کو امیدیں ہیں کہ یہ پابندی ختم ہو جائے گی، جبکہ سڑک حفاظت کے ماہرین رفتار اور سواری کی صلاحیت پر خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ حکام کا خیال ہے کہ لازمی تربیت اور لائسنسنگ سے حادثات کم ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب ہائی وے پٹرول کی جانب سے عوامی حفاظت کے لیے سفری ہدایات جاری

نتیجہ

حتمی فیصلہ آنے تک پابندی برقرار رہے گی اور سواروں کو عدالت اور موٹروے حکام کے احکامات کا انتظار کرنا ہوگا۔ یہ فیصلہ سڑک حفاظت اور شوقین افراد کے مفادات میں توازن قائم کر سکتا ہے۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں