اسلام آباد: پاکستان ریلوے کی جانب سے اسلام آباد، تہران اور استنبول کو ملانے والی فریٹ ٹرین سروس کا افتتاح، جو 31 دسمبر کو شیڈول تھا، سیکیورٹی کلیئرنس نہ ملنے کی وجہ سے ملتوی کر دیا گیا ہے۔ ریلوے حکام کے مطابق، ٹرین اسلام آباد سے روانہ ہو کر سبی، سپیزنڈ جنکشن، نوشکی اور دالبندین سے گزرتے ہوئے میرجاویٰ کے ذریعے ایران میں داخل ہونی تھی، مگر روانگی سے ایک دن قبل مطلوبہ منظوری نہ ملنے پر سروس شروع نہ کی جا سکی۔
تیاریاں مکمل، تاخیر کی وجوہات
کوئٹہ ریلوے ڈویژن کے حکام نے بتایا کہ ٹرین کی آمد اور آگے کے سفر کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے تھے۔ بلوچستان کے حساس علاقوں سے گزرنے والے راستے پر سیکیورٹی کے حوالے سے خصوصی اقدامات کیے گئے، لیکن مرکزی سطح پر کلیئرنس کا معاملہ التوا کا شکار رہا۔ پاکستان ریلوے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ تاخیر عارضی ہے اور جلد ہی منظوری ملنے پر سروس کا آغاز کر دیا جائے گا۔ یہ منصوبہ علاقائی تجارت کو فروغ دینے کے لیے اہم ہے، جو پاکستان، ایران اور ترکی کے درمیان مال برداری کو آسان بنائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں نئے سال کی تقریبات کے لیے جامع ٹریفک پلان جاری
منصوبے کی اہمیت اور چیلنجز
یہ فریٹ ٹرین سروس علاقائی روابط کو مضبوط بنانے کا ایک اہم قدم ہے، جو پاکستان کی معیشت کو برآمدی مواقع فراہم کرے گی۔ تاہم، بلوچستان کے علاقوں میں سیکیورٹی مسائل کی وجہ سے ایسے منصوبوں میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایران اور ترکی کے ساتھ تعاون جاری ہے، اور یہ سروس شروع ہونے سے تجارت میں اضافہ ہوگا۔
نتیجہ: امید کی کرن
حکام نے یقین دلایا ہے کہ سیکیورٹی کلیئرنس ملنے کے فوراً بعد ٹرین سروس کا آغاز ہو جائے گا، جو پاکستان کی علاقائی تجارت میں نئی جہت لائے گی۔ یہ منصوبہ نہ صرف اقتصادی فوائد لائے گا بلکہ پڑوسی ممالک کے ساتھ روابط کو بھی مضبوط کرے گا۔
