ویلنگٹن: نیوزی لینڈ کے مشہور بلے باز اور سابق کپتان کین ولیمسن نے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا ہے۔ نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نے اس کی تصدیق کی ہے کہ وہ ویسٹ انڈیز کے خلاف وائٹ بال سیریز میں بھی حصہ نہیں لیں گے تاکہ دسمبر میں تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز پر توجہ مرکوز کرسکیں۔ ولیمسن ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں نیوزی لینڈ کی جانب سے دوسرے سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی ہیں، جنہوں نے 93 میچوں میں 2575 رنز اسکور کیے۔ وہ ون ڈے اور ٹیسٹ فارمیٹس میں کھیلتے رہیں گے۔
کیریئر کی جھلکیاں
کین ولیمسن نے 2011 میں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل ڈیبیو کیا اور 93 میچوں میں 18 نصف سنچریوں کے ساتھ شاندار کارکردگی دکھائی۔ انہوں نے 75 میچوں میں ٹیم کی قیادت کی اور نیوزی لینڈ کو دو مرتبہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل (2016 اور 2022) اور ایک بار فائنل (2021) تک پہنچایا۔ ان کی مستقل مزاجی اور لیڈرشپ نے کیوی ٹیم کو عالمی سطح پر مضبوط مقام دلایا۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان حکومت کا نو عمر قیدیوں کے لیے علیحدہ جیل بنانے کا فیصلہ
یہ ریٹائرمنٹ نیوزی لینڈ کرکٹ کے لیے ایک اہم موڑ ہے، کیونکہ ولیمسن جیسے تجربہ کار کھلاڑی کی کمی محسوس ہوگی۔
ریٹائرمنٹ کی وجوہات
ولیمسن نے اپنے بیان میں کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی سے پیچھے ہٹ جاؤں، یہ ٹیم اور میرے لیے درست فیصلہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے ٹیم کو آئندہ سیریز اور 2026 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے واضح سمت ملے گی۔ انہوں نے نئے کپتان مچل سینٹنر کی تعریف کی اور ٹیم کے مستقبل پر اعتماد کا اظہار کیا۔
نتیجہ
کین ولیمسن کا ٹی ٹوئنٹی سے ریٹائرمنٹ نیوزی لینڈ کرکٹ کی تاریخ کا ایک باب بند کرتا ہے، لیکن ان کی میراث برقرار رہے گی۔ پاکستانی شائقین جو عالمی کرکٹ کو فالو کرتے ہیں، ان کی کارکردگی کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ یہ فیصلہ ٹیسٹ اور ون ڈے پر توجہ بڑھانے کا اشارہ ہے، جو کیوی ٹیم کی حکمت عملی کو مضبوط کرے گا۔
