کراچی، پاکستان کا معاشی دل، آج کل ای چالان نظام کی وجہ سے ہنگاموں کا شکار ہے، جہاں ٹریفک جرمانوں میں اچانک پانچ گنا اضافہ نے شہریوں کو مزید مایوس کر دیا ہے۔ یہ ناراضگی محض جرمانوں تک محدود نہیں بلکہ پانی کی قلت، ٹریفک جام، ناقص انفراسٹرکچر، سیاسی غفلت اور مافیا کی گرفت کا نتیجہ ہے۔ شہر کے چار کروڑ مکینوں کا غصہ ووٹ، احتجاج اور اب لاتعلقی میں ظاہر ہو رہا ہے، جبکہ حکمران بڑے منصوبوں کے دعوے تو کرتے ہیں مگر عملی اقدامات ناکافی ہیں۔
تاریخی پس منظر: وعدوں کی لاش
کراچی کی مسائل سات دہائیوں پر محیط ہیں۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد شہر کا ماسٹر پلان دفن ہو گیا، اور ہر حکومت نے اپنا ناقص منصوبہ مسلط کیا جس نے شہر کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ جوانی میں بڑی بسیں، ٹرام، سرکلر ریلوے اور صاف نلکوں کا پانی دستیاب تھا، مگر آج پارکوں اور کھیلوں کے میدان غائب ہیں۔ 80 کی دہائی سے جرم، سیاست اور مافیا کا گٹھ جوڑ نے ہر ادارے کو برباد کر دیا، جبکہ شہر غیر ضروری پھیلاؤ کا شکار ہوا۔ سندھ بلڈنگ اتھارٹی جیسے اقدامات نے مزید افراتفری پھیلائی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکاکی ریاستوں ورجینیا اور نیوجرسی میں بھی ڈیموکریٹس کامیاب
موجودہ چیلنجز: منصوبوں کی ناکامی
ای چالان تو محض ایک قطرہ ہے سمندر میں۔ سگنل توڑنے یا ہیلمٹ نہ پہننے پر جرمانہ مناسب ہو سکتا ہے، مگر جب پانی ٹینکرز پر منحصر ہو، نمبر پلیٹ تبدیل کرانے پڑیں اور کھلے مین ہولز جان لیوا ہوں تو غصہ فطری ہے۔ سیف سٹی پروجیکٹ کی لاگت 2010 میں 1.8 ملین ڈالرز تھی جو آج 500 ملین تک پہنچ گئی، جبکہ K-IV واٹر پروجیکٹ بھی ادھورا پڑا ہے۔ فلائی اوورز اور انڈر پاسز لاہور یا اسلام آباد سے موازنہ کریں تو ناکامی واضح ہے۔ شہری ساحل تک رسائی کھو چکے، جہاں بدبو دار پانی تفریح کو ختم کر رہا ہے۔
سیاسی ذمہ داری: اعتماد کی بحالی
پی پی پی کی 2008 سے مسلسل حکومت کے باوجود مقامی ادارے کمزور ہیں۔ شہریوں نے پی پی، جماعت اسلامی، ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کو ووٹ دیا مگر ہر بار مایوسی ملی۔ نوجوانوں کی جدوجہد کو میرٹ کا قتل کہا گیا، غصے کو ماورائے عدالت سزائیں دی گئیں۔ کچھ سڑکیں بہتر ہو رہی ہیں، خاص طور پر سپر ہائی ویز، مگر چار کروڑ آبادی کے لیے ناکافی۔
نتیجہ: نئی حکمت عملی کی ضرورت
کراچی کی ناراضگی ای چالان سے آگے ہے؛ یہ بنیادی مسائل، منصوبوں کی بروقت تکمیل، ٹریفک بہتری اور مافیا کے خاتمے کا مطالبہ ہے۔ جرمانے مناسب رکھیں مگر بار بار خلاف ورزی پر لائسنس منسوخ کریں۔ حکمرانوں کو اعتماد بحال کرنے کے لیے اہلیت اور منصوبہ بندی دکھانی ہوگی۔ ورنہ یہ معاشی حب مزید دور ہوتا جائے گا۔ شہر جیتنے کا وقت ہے، مگر کس پر بھروسہ کریں جب سب نے مایوس کیا؟
